مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 126 of 239

مضامین ناصر — Page 126

بےنصیب کر دیا جائے گا۔اگر وہ اپنے مال کی وجہ سے غیبت اور عیب چینی کا رستہ اختیار کرتا ہے تو ہم اسے یہ بتاتے ہیں کہ یہ مال اس کے پاس، اس کے خاندان کے پاس اور اس کی اولاد کے پاس رہ نہیں سکتا وہ مٹے گا اور ضرور مٹے گا۔اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں سمجھانے کے لئے ایک بڑی بھیانک مثال بیان فرمائی ہے اور وہ مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس کے پاس تقویٰ بھی نہیں ، جس کے پاس علم و معرفت بھی نہیں ، جس کے پاس حسب و نسب کا شرف بھی نہیں ، لے دے کر اگر اس کے پاس کچھ ہے تو وہ مال ہے جیسا کہ فرمایا الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَدَهُ - يَحْسَبُ اَنَّ مَالَةَ اَخْلَدَهُ۔(الهمزة:۴۳) اس سے ظاہر ہے کہ خود اس کو بھی دعویٰ نہیں ہے کہ مجھ میں تقویٰ ہے یا مجھے خاندانی شرف حاصل ہے یا میں علم و معرفت سے بہرہ ور ہوں۔اس کا دعویٰ اتنا ہی ہے کہ میرے پاس مال ہے وہ کہتا ہے میں بڑا امیر ہوں، میں لکھ پتی ہوں اور کروڑ پتی ہوں۔سو گویا اس کے پاس بڑائی کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے مال۔اس مال کو وہ غیبت اور عیب چینی کی وجہ بنالیتا ہے۔تو یہ سب سے بڑی اور گندی مثال ہوئی۔اس کے پاس تقویٰ بھی نہیں، اس کے پاس شرافت بھی نہیں ، اس کے پاس علم بھی نہیں صرف اور صرف مال ہے اور کہنے کو بے حساب مال ہے کہ ہر وقت اسے گنتا رہتا ہے اور اس مال کے گھمنڈ میں کہنا شروع کر دیتا ہے کہ فلاں تو بڑا غریب ہے، اور پھر غربت کی ساری برائیاں اس کی طرف منسوب کرتا چلا جاتا ہے۔یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان کرتے ہوئے الَّذِي جَمَعَ مَالًا فرمایا ہے یعنی مال“ کا لفظ یہاں نکرہ آیا ہے ”المال نہیں کہا بلکہ ”مالا “ کہا ہے۔سو اس بارے میں یادرکھنا چاہیے کہ تنوین عربی زبان میں تین معنوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اول اس میں تحقیر کے معنی پائے جاتے ہیں۔ان معنوں کی رو سے خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ وہ تھوڑ اسا مال جمع کرتا ہے اور پھر بھی کبر وغرورا اختیار کر لیتا ہے۔تھوڑا اس لئے کہ دنیا کا مال خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو آخرت کے مقابلے میں تھوڑا ہے۔پھر کروڑوں کروڑ ہونے کے باوجود بھی وہ اس لئے تھوڑا ہی کہلائے گا کہ وہ بظا ہر زیادہ ہونے کے باوجود اس کی چند روزہ زندگی میں ہی کام آ سکتا ہے۔وہ پچاس سال کام آ سکتا ہے، ساٹھ