مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 81 of 239

مضامین ناصر — Page 81

ΔΙ ایک زبر دست اقتصادی تحریک ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت نظام وصیت کا اجراء کیا۔نظام وصیت اسلام کے طوعی چندوں کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے والا نظام ہے۔ہر شخص اپنی مرضی سے اور بلا جبر و اکراہ اپنی کل جائیداد کا دسویں حصہ سے لے کر تیسرے حصہ تک اشاعت دین اور مصالح دین کے لئے دیتا ہے تا ان اموال سے جماعت احمد یہ تیموں ، بیواؤں اور محتاجوں کی خبر گیری کر سکے۔یہ ایک زبردست اقتصادی تحریک ہے۔جو اپنے دائرہ میں اتنی وسعت رکھتی ہے کہ دنیا کی کوئی اقتصادی تحریک بلا استثناء تحریک اشتراکیت طاقتور انتظام ہے کہ دنیا کا کوئی نظام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔۱۹۰۵ء میں یہ نظام قائم کیا گیا اور 9 مارچ ۱۹۰۷ء کو حضور علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے الہام کیا کہ ” ہزاروں آدمی تیرے پروں کے نیچے ہیں“۔(تذکرہ صفحہ ۶۵۰) ان روحانی معنوں کے علاوہ جو اس الہام میں پائے جاتے ہیں۔یہ الہام نظام وصیت یعنی نئے نظام اقتصادیات کی کامیابی کی شاندار بشارت بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔وہ ہزاروں انسان جواب سے تربیت حاصل کریں گے اپنی جائیدادوں کے ۱۰ را حصہ سے لے کر ۳ را تک اِس نظام نو کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے دیں گے اور یہ نظام اتنا مضبوط اور اس قدر وسیع ہو جائے گا کہ صرف یہی ایک نظام ہو گا جو تمام دنیا کے بھوکوں کی بھوک دور کرنے والا بنے گا اور تمام محتاجوں کی حاجت روائی کرے گا۔خواہ یہ محتاج منتظم ہو کر اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے ہوں۔یعنی سائل ہوں یا بوجہ اپنی کمزوریوں کے سوال کرنے کی جرات بھی نہ رکھتے ہوں۔خواہ یہ ایسے لوگ ہوں جن پر ان کی اقتصادی مصیبت اس قدر بڑھ چکی ہو کہ وہ سوال پر اُتر آئیں۔خواہ یہ ایسے لوگ ہوں جن کی عزت نفس سوال پر موت کو ترجیح دیتی ہو۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ۱۹۰۷ء کے ایام جلسہ میں حضور علیہ السلام کو فرمایا کہ یايُّهَا النَّبِيُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَر كم اے نبی تو اور وہ ہزاروں آدمی جو تیرے پروں کے نیچے ہیں تم سب بھوکوں اور محتاجوں کو کھلا ؤ اور ان کی حاجت روائی کرو۔نبی سے خطاب بتاتا ہے کہ یہ ذمہ داری نظام جماعت پر ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ بہت سے دوسرے اقتصادی نظام (خصوصاً نظام اشتراکیت) یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ان کے