مضامین ناصر — Page 80
۸۰ آنا فانا آنے والی آندھی نسلوں کی اقتصادی تباہی کا موجب بن جاتی ہے۔اگر آج بھی وہ روس کا مزدور بہت سے سرمایہ دار ممالک کے مزدور کی نسبت کم مایہ ہے تو یقیناً اس کی ایک وجہ وہ جبری انقلاب ہے۔جو آنا فانا چند دنوں کی بغاوت کے نتیجہ میں اس ملک میں قائم ہوا۔خلاصہ کلام خلاصہ کلام یہ کہ اسلام ہی کے اقتصادی قوانین ہیں جس میں دنیا کی اقتصادی فلاح کا راز مضمر ہے۔مگر اسلام کے پہلے دور میں بوجہ اس کے کہ سیاسی اور تمدنی اسباب اسے میسر نہ تھے اور بوجہ اس کے کہ اسلام کے پہلے اور دوسرے دور کے درمیان ظلمتوں کا ایک دور آنے والا تھا۔آج سے قبل طوعی چندے مستقل بنیادوں پر قائم نہیں کئے گئے تھے۔اسلام کے دوسرے دور میں اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کرنے والا ہے جن میں اسلامی طوعی اقتصادیات مستقل بنیادوں پر کھڑی ہو جائیں۔پس اس دوسرے دور کے متعلق جسے نظام نو بھی کہا جاسکتا ہے۔کچھ کہنا ضروری ہے۔اسلام کا نظام نو ۱۸۷۴ء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کشف میں دکھایا کہ ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا۔جو ایک اونچے چبوترے پر بیٹھا ہوا تھا۔اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا۔جو نہایت چمکیلا تھا۔وہ نان اس نے مجھے دیا اور کہا ” یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔حضور علیہ السلام نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ حضور کو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والی ایک جماعت عطا کرے گا اور یہ کہ رزق کی پریشانی آپ کو اور آپ کے درویشوں کو پراگندہ نہیں کرے گی۔یہ بالکل ابتدائی زمانہ کا الہام ہے۔جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی دعویٰ نہیں کیا تھا اور جماعت احمدیہ کی بنیاد بھی ابھی نہ رکھی گئی تھی۔اس الہام میں بھی ایک نئے اقتصادی دور کی طرف ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔