مضامین ناصر — Page 79
۷۹ ہیں۔مثلاً جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔روسی حکومت نے ایک روبل کی قیمت آٹھ آنے مقرر کی ہوئی ہے۔روس میں ایک روبل سے صرف ایک پاؤ آٹا خریدا جاسکتا ہے۔لیکن ہندوستان میں اٹھنی سے پانچ سیر سے بھی اوپر آٹا خریدا جا سکتا تھا۔(۱۹۳۷ء کی قیمتوں کے لحاظ سے ) اگر روس باہر کے ملکوں سے آٹا خریدے تو وہ اپنے ملک کے لحاظ سے بیس گنا زیادہ آٹا خرید رہا ہوگا۔بالفاظ دیگر دوسرے ملک کو ایک اور بیس کی نسبت سے نقصان پہنچا رہا ہو گا۔پس جس ملک کی اقتصادیات غیر ممالک کولوٹنے کی تاک میں ہو اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے کو بین الاقوامی تحریک کہے۔اسلام اس کے برعکس بوجہ ایک مذہبی تحریک ہونے کے ملک ملک نسل نسل اور قوم قوم میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔اسلام عالمگیر تبلیغ اور اشاعت کی بنیادوں پر قائم ہے اور اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ جس طرح وہ اپنے پہلے دور میں دنیا کے بہت سے ممالک میں پھیل گیا اور ایک شاندار بین الاقوامی برادری اس نے قائم کی اپنے دور ثانی میں وہ تمام دنیا پر چھا جائے گا اور وحدت اقوامی کے قائم کرنے والی تحریک صرف اسلامی تحریک ہی ہوگی۔اقتصادی لحاظ سے بھی اسلام نے کسی ایسی چیز کو جائز قرار نہیں دیا، جس سے طاقتور ملک غریب ممالک کو لوٹ سکے۔اسلام rate of exchange کے مخالف ہے۔(اسلام کا اقتصادی نظام ) اور بین الاقوامی تجارت کو مبادلہ اشیاء کے اصول پر قائم کرنا چاہتا ہے۔پنجم :۔اسلام کا اقتصادی نظام طوعی ہے۔مگر کچھ حصہ جبری ہے۔مگر یہ چیز بھی انصاف پر مبنی ہے۔بہترین نظام وہی ہوتا ہے جس میں کچھ حصہ منصفانہ جبر پرمبنی ہو اور کچھ حصہ طوعی ہو۔جن کا سارا مال جبر آلے لیا جاتا ہے انہیں کوئی اخلاقی یا روحانی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ہاں یہ خطرہ ضرور پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں بعض رذیل خصائل ان میں پیدا ہو جا ئیں۔غاصبوں کے خلاف غصہ کی آگ ان کے دلوں میں پیدا ہو۔ان کے اموال سے فائدہ اٹھانے والوں کے متعلق انتقام کی آگ ان کے سینوں میں شعلہ زن رہے اور جب بھی رد عمل کا ان کو موقعہ ملے وہ غرباء پر پہلے سے بھی زیادہ مظالم ڈھانے لگیں۔جبری نظام بتدریجی نہیں ہوتا۔جسے اقتدار حاصل ہو۔غلبہ مل جائے۔وہ اپنے اقتدار اور غلبہ سے فوری فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔آہستگی سے کام کرنے کی اسے ضرورت نہیں ہوتی اور یہ