مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 78 of 239

مضامین ناصر — Page 78

ZA سونے چاندی کے زیور استعمال کر سکتا ہے نہ اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے اپنے ایک مہمان کے لئے سو سو اونٹ ذبح کرسکتا ہے جو سادہ کھانا کھاتا ہے۔سادہ کپڑوں میں ملبوس نظر آتا ہے۔غرضیکہ ہر طرح سادہ زندگی گزارتا ہے۔اس میں اور اس غریب میں جس کی تمام ضروریات زندگی پورا کرنا حکومت کا فرض ہے کوئی بڑا فرق نہیں رہ جاتا۔اس طرح امیر و غریب میں مساوات ہی قائم نہیں ہوتی ہر ایک کو انفرادی آزادی بھی میسر آتی ہے۔وہ آزادی جس میں دینی اور دنیوی ترقی کی راہیں ہر دو کے لئے یکساں کھلی ہیں۔بین الاقوامی تمدن کی بنیاد چهارم اسلامی اقتصادیات میں ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی تمدن کی بنیاد رکھتی ہے۔دنیا میں آج تک کوئی ایسی اقتصادی تحریک جاری نہیں ہوئی۔جسے صحیح معنوں میں بین الاقوامی کہا جاسکتا ہو۔سرمایہ داری اور امپیریلزم کے ملکی ہونے میں تو کوئی شک نہیں ہوسکتا۔اشتراکیت جسے لوگ بین الاقوامی تحریک سمجھتے ہیں اور جس کا کبھی خود بھی یہی دعویٰ تھا بین الاقوامی تحریک نہیں سمجھی جاسکتی۔اس لئے کہ آج اشتراکیت روسی اشتراکیت کا نام ہے اور روسی اشتراکیت کے مقاصد میں سے یہ ایک مقصد نہیں کہ دنیا میں اشتراکیت کو قائم کیا جائے۔مارچ ۱۹۲۶ء میں جب مسٹر آر ہا ؤرڈ نے سٹالن سے یہ سوال کیا کہ کیا سویٹ یونین نے عالمگیر اشتراکی انقلاب کے ارادے اور اس کا پروگرام اب چھوڑ دیا ہے۔تو سٹالن نے جواب دیا کہ دنیا میں اس قسم کا انقلاب پیدا کرنے کا ہمارا کبھی بھی ارادہ نہ تھا۔(سویٹ یونین ۱۹۳۶ء صفحه ۵۰-۵۱) اگر روسی اشتراکیت کا ایسا کوئی ارادہ بھی ہوتا تو بھی اس کے لئے ایسا کرنا ناممکن نہ تھا۔اس کے ثبوت میں صرف یہ ایک دلیل ہی کافی ہے (اور ایک سے زائد دلائل دینے کی اس وقت گنجائش بھی نہیں ) کہ روی اقتصادیات روبل پر قائم ہے۔اور بین الاقوامی نقطہ نگاہ سے روبل کی قیمت ایکسچینچ ریٹ پر رکھی گئی ہے۔ایکسچینج ریٹ کے نتیجہ میں طاقتور ممالک غریب ملکوں کو لوٹنے کی کوشش کرتے