مضامین ناصر — Page 77
کم قیمت پر مال خریدنے کی ممانعت جہاں اسلام نے منڈی کی قیمت سے کم قیمت پر مال بیچنا منع فرمایا۔وہاں کم قیمت پر مال خرید نے سے بھی منع کیا۔آنحضرت ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ لوگ شہر سے باہر تجارتی قافلوں کو ملیں اور قبل اس کے کہ شہر کی منڈی کے بھاؤ انہیں معلوم ہوں۔ان کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم قیمت پر ان سے مال خرید لیں۔اسی طرح آپ نے اس بات سے بھی منع فرمایا کہ شہری لوگ ناواقف دیہاتیوں کے لئے بیع کریں۔خلاصہ یہ کہ یہ پانچوں چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ بعض لوگ نا جائز طور پر دولت اپنے قبضہ میں کر لیا کرتے ہیں اور بعض دوسرے لوگ ناجائز نقصان برداشت کرتے ہیں۔یہ تمام باتیں آزادانہ اقتصادی جد و جہد کے راستہ میں روک تھیں۔اگر ان کی اجازت دے دی جاتی تو امیر وغریب کا امتیاز اور نا قابل برداشت حد تک بڑھ جاتا اور غرباء ایک باطنی غلامی کے شکار ہو جاتے۔پس اسلام نے ان چیزوں کو منع فرما کر اپنی تعریف کے مطابق اقتصادی مساوات کو قائم کیا ہے۔لطیف فطری جذبات کا خیال سوئم : اسلام کے اقتصادی قوانین انفرادیت اور لطیف فطری جذبات کا خیال رکھتے ہیں۔اکثر چندوں کو طوعی رکھ کر ایک طرف افراد کی روحانی ترقی اور قرب الہی کے حصول کے رستے کھولے ہیں اور دوسری طرف وَفِی اَمْوَالِهِمُ حَقٌّ کا اصول قائم کر کے کہ امراء کے اموال میں غرباء کی کمائی کا بھی ایک حصہ ہے اور حکومت کو ضروریات زندگی کے مہیا کرنے کا ذمہ دار قرار دے کر حاجتمندوں کو احساس دنایت سے بچایا۔ورثہ کی تقسیم کے معتین قوانین بنا کر اس بات کی حفاظت کی کہ اموال بعض خاندانوں میں جمع ہونے نہ شروع ہو جائیں تو ورثہ کی اجازت دے کر جذبات قرابت واخوت کو سیر کیا۔امراء کو عیش و عشرت کی زندگی گزارنے سے روک کر انہیں تمدنی لحاظ سے غرباء کی ہی صف میں لا کھڑا کیا۔وہ امیر جو ناچ گانے کی مجلس میں شریک ہوتا ہے نہ اسے شراب کی عادت ہے نہ وہ ریشم پہن سکتا ہے نہ وہ