مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 17 of 239

مضامین ناصر — Page 17

۱۷ تمہارے مذاق کا نشانہ خدا اور اس کا مقرر کردہ امام اور اس کی پاک جماعت ہی رہ گئے ہیں اور تمہیں اس ناپاک کھیل کے لئے کوئی اور موضوع نہیں ملتا۔منشی فخر الدین نے پہلے بعینہ منافقین کے قدم پر قدم مارا۔اپنے بیان میں لکھتے ہیں۔اور کس دلیری سے کہ ” بے تکلفانہ انداز میں میرے جیسے بے تکلف آدمی کے مونہہ سے صدہا ایسی باتیں نکلتی ہیں جنہیں معمولی عقل کا آدمی بھی کوئی وقعت نہیں دیتا۔کہا گیا ہے کہ میں نے مولوی ظفر محمد صاحب سے کہا کہ تم ان خدمات کے بدلہ میں ناظر بنا دیے جاؤ گے۔اوّل تو یہ مجھے یاد نہیں پھر ممکن ہے مذاق میں میں نے اس سے بھی بڑھ کر الفاظ کہے ہوں۔خود مولوی ظفر محمد صاحب مجھ سے مذاق کر لیتے ہیں۔“ (الفضل ۱۸ جولائی) اس بیان سے ظاہر ہے کہ مذاق (اگر مذاق کے لفظ کوضرور ایسی بات پر استعمال کر کے بدترین بدمذاقی کا ثبوت دینا ہو ) مولوی ظفر محمد صاحب سے نہیں کہا گیا بلکہ حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ پر استہزا کیا گیا ہے۔کیونکہ مذاق مولوی ظفر محمد صاحب کی خدمات پر نہیں بلکہ ان کے صلہ اور بدلہ پر ہے۔, کہ ”بدلہ میں انہیں ناظر بنا دینا چاہیے تھا۔اب خدمات کا انعام‘ یا بدلہ تو مولوی ظفر محمد صاحب کے ہاتھ میں نہ تھا۔اس کا دینا یا نہ دینا تو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھا اور یہ مذاق بھی حضور کی ذات سے نہ تھا بلکہ خلیفتہ اسیح علیہما السلام ہونے کی حیثیت سے تھا۔اور اس حیثیت سے یہ مذاق خلیفہ وقت سے نہ تھا بلکہ خدا کے مقدس مسیح سے تھا۔پھر یہی نہیں بلکہ یہ مذاق تھا اللہ تعالیٰ کی آیات سے اور خود اللہ تعالیٰ سے ہنسی کرنے کے مترادف تھا۔یوں تو جو ہنسی اور استہزا رسول یا اس کے جانشین سے کیا جائے وہ دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات سے ہی ہوتا ہے کیونکہ رسول اور خلفائے راشدین اللہ کے جلال کے مظہر اور اس کی آیات کے حامل ہوتے ہیں۔پھر اس پر استہزاء جس کے متعلق خود خدا تعالیٰ نے اپنے مسیح کو بشارت دی ہو کہ وہ حسن واحسان میں تیرا نظیر ہو گا۔کس قدر ظلم عظیم ہے۔مگر یہاں تو خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی ذات سے استہزا ہے۔اس کی آیت سے اس لئے کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق