مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 179 of 239

مضامین ناصر — Page 179

۱۷۹ پس چاہیے کہ جس طرح تمہارے دل ہر ناپاکی سے منز ہ ہوں اسی طرح تمہارا ماحول بھی ہر گندگی اور نجس سے پاک ہو۔یہ بھی یاد رکھو کہ وہ لوگ جو خدمت خلق کو اپنا مقصود قرار دیتے ہیں وہی ہر قسم کی عزت کے مستحق ہیں“۔(الفضل ۱۰ اپریل ۱۹۳۸ء) پس ”غریبوں اور مسکینوں کی بلکہ ہر قوم کے غریبوں اور بیکسوں کی۔تادنیا کو معلوم ہو کہ احمدی کتنے بلند ہوتے ہیں“۔(الفضل ۱۳ را پریل ۱۹۳۸ء) پس اپنے فوائد کو بھلا کر دوسروں کو نفع پہنچانا اپنا نتہا قرار دو۔تا اس رنگ میں بھی مظہر خدا بن جاؤ۔یہ خیال رہے کہ تمہارے جسموں کے بھی تم پر کچھ حقوق ہیں۔پس اپنی صحت کا خیال رکھو اور ایسی کھیلیں کھیلو جو نہ صرف جسمانی قوتوں کو بلکہ ذہنی قوتوں کو بھی فائدہ پہنچانے والی ہوں اور آئندہ زندگی میں بھی کام آئیں اور متوازن غذا کا خاص طور پر خیال رکھو تا تمہارے جسم میں چستی اور پھر تی پیدا ہو۔تمہارے اعضاء درست رہیں اور تمہاری ہمتیں بلند ہوں تا تمہارے کندھے ان ذمہ داریوں کو استقلال اور مداومت کے ساتھ اٹھا سکیں جو ذمہ داریاں تمہارے پیارے اور محبوب امام نے تم پر جو خدام الاحمدیہ ہو ڈالی ہیں۔”اگر تم یہ کام کرو تو گو دنیا میں تمہارا نام کوئی جانے یا نہ جانے۔۔۔مگر خدا تمہارا نام جانے گا اور جس کا نام خدا جانتا ہو اس سے زیادہ مبارک اور خوش قسمت اور کوئی نہیں (الفضل۔اراپریل ۱۹۳۸ء) آپ کو ایک لحظہ کے لئے بھی یہ حقیقت نہیں بھلانی چاہیے کہ آپ کا قیام اس لئے کیا گیا ہے کہ جماعت کو مضبوطی اور ترقی حاصل ہو۔اگر آپ کے کسی کام یا حرکت کی وجہ سے جماعت میں تفرقہ اور ہوسکتا۔شقاق پیدا ہو۔تو آپ سے زیادہ کوئی شقی اور بد بخت نہ ہوگا۔ہمارے پیارے امام ( حضرت مصلح موعود ) بڑے ہی درد کے ساتھ ہمیں نصیحت فرماتے ہیں کہ پس خدام الاحمدیہ کو اور انصار اللہ دونوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے آپ کو تفرقہ اور شقاق کا موجب نہیں بنانا چاہیے۔اگر کسی حصہ میں شقاق پیدا ہوا تو خدا تعالیٰ کے سامنے تو وہ جوابدہ ہوں گے ہی۔میرے سامنے بھی وہ جوابدہ ہوں گے۔یا جو بھی امام ہوگا اس کے سامنے انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔کیونکہ ہم نے یہ مواقع ثواب حاصل