مضامین ناصر — Page 158
۱۵۸ بنیں۔اگر کسی کا بچہ آوارہ ہو جاتا ہے تو اس کے والدین کو بہت دکھ ہوتا ہے لیکن ایک باپ اپنے بچے سے جتنی محبت کرتا ہے خدا اپنے بندہ سے اس سے کہیں بڑھ کر محبت کرتا ہے۔اگر اس کا کوئی بندہ اس سے غافل ہو جائے تو اسے یہ بات بہت شاق گزرتی ہے۔پس ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے باپوں سے بڑھ کر خدا تعالیٰ سے محبت کریں اور اپنے بچوں کی بھی اس طرح تربیت کریں کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دیں اور اس کے حقیقی عبد بن کر اس کے دین کی خدمت کو لازم پکڑیں۔اسی طرح انصار اللہ کو چاہیے کہ وہ اپنی دوسری ذمہ داریوں کو بھی پوری مستعدی اور حسن کارکردگی کے ساتھ ادا کریں۔انہیں اپنی تنظیم کو مضبوط کرنا چاہیے اور اسی طرح مالی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی پوری کوشش کرنی چاہیے نیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے مطالعہ کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سب کتب اللہ تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت کے ماتحت لکھی ہیں اور یہ حقائق و معارف سے اس طرح پر ہیں جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے۔آپ نے قرآن کریم کے دریا کے زور دار بہاؤ کو اس خوبصورتی سے مختلف چینلز میں منتقل کیا ہے کہ ہر قوم اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور اپنی روحانی پیاس بجھا کر اعلیٰ ترقیات حاصل کر سکتی ہے۔مسیح موعود کے متعلق یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ خزا نے تقسیم کرے گا لیکن لوگ ان خزانوں کو قبول نہیں کریں گے۔ان خزانوں سے مراد روحانی خزائن ہیں نہ کہ دنیوی اموال۔ہمیں ان روحانی خزائن سے خود بھی اپنی جھولیاں بھرنی چاہئیں اور دوسروں کو بھی یہ خزانے دینے چاہئیں تا کہ وہ بھی محروم نہ رہیں۔ان سے نہ صرف ہم مالا مال ہوں بلکہ وہ بھی مالا مال ہوں اور ان کے بھی دامن استعداد پُر ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انہیں کماحقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جلد ایسے حالات رونما فرمائے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض کو یہ تمام و کمال پورا کرنے والے ہوں۔(ماہنامہ انصار اللہ ربوہ جولائی ۱۹۶۳ء صفحه ۲۵ تا ۳۰)