مضامین ناصر — Page 127
۱۲۷ سال کام آ سکتا ہے، ستر سال کام آسکتا ہے، اسی سال کام آسکتا ہے، حد ہے سو سال کام آسکتا ہے۔سوسال بھی آخری حد ہے کیونکہ کتنے لوگ ہیں جو سو سال تک زندہ رہتے ہیں سوکتنا ہی مال کیوں نہ ہو استفادہ کے لحاظ سے بھی وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑا ہے۔انسان جو زادِراہ آخرت کے لئے فراہم کرتا ہے وہ ان گنت سالوں تک اس کے کام آنا ہے ، سو سال کے لئے نہیں، ہزار سال کے لئے نہیں، لاکھ سال کے لئے نہیں، کروڑ سال کے لئے نہیں، ارب سال کے لئے نہیں، بلکہ اتنے سالوں کے لئے کہ جن کا ہم شمار بھی نہیں کر سکتے اس لئے کہ آخرت کی زندگی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔تو وہ مال جو کروڑوں کروڑ اور اربوں ارب سال سے بھی زیادہ زمانوں تک کام آنے والا ہے اس کے مقابلہ میں دنیا کا مال خواہ وہ بظاہر کتنا ہی بے حساب کیوں نہ ہو استفادہ کے لحاظ سے بالکل حقیر اور بے حیثیت نہیں تو اور کیا ہے ! اصل مال تو وہی ہے جس سے ہم نے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے اور زیادہ سے زیادہ لمبے عرصے تک فائدہ اٹھاتے چلے جانا ہے۔جس مال نے ہمیں زیادہ سے زیادہ ساٹھ ستر یا حد ہے سوسال تک فائدہ دیاوہ مال زیادہ ہے یا وہ مال زیادہ ہے جس نے ہمیں اربوں اور کھر بوں سالوں سے بھی بڑھ کر زمانوں تک فائدہ دیتے چلے جانا ہے۔تو تنوین سے اس طرف اشارہ کیا کہ وہ خواہ کتنا ہی زیادہ مال جمع کر لے وہ پھر بھی تو تھوڑا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ایک اور جگہ فرماتا ہے فَمَا مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ (التوبة: ۳۸) کہ دنیا کا مال و متاع خواه وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو آخرت کے مقابلہ میں حقیر ہی ہے تھوڑا ہی ہے قلیل ہی ہے۔دوسرے تنقیح (یعنی فتح کی بات) اور تنقیص (یعنی کمی اور نقص کی بات ) کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو تو بھی ہم تنوین لاتے ہیں۔اس لحاظ سے جَمَعَ مَالًا کے معنی ہوں گے کہ اس نے بڑا ہی خبیث قسم کا مال اور حرام قسم کا مال اکٹھا کر لیا اور پھر اس مال کو اس نے کبر وغرور کا ذریعہ بنالیا حالانکہ مال بھی وہ ایسا ہے جس میں سے خباثت کی بو آ رہی ہے۔وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِی اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ کہ ہماری تعلیم یہ ہے کہ ہرا میر کے مال میں سائل اور محروم کا حق ہے۔یہ شخص مال جمع کرتا ہے اور اس میں جو دوسروں کا حق ہے وہ انہیں دیتا نہیں۔سو گو یا حرام مال جمع کرتا