مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 61 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 61

مضامین بشیر جلد چهارم 61 تشریح کی وجہ سے مسلمانوں کی صحیح نمائندہ نہیں ہے۔بعض دوسری اسلامی جماعتوں کو مشرقی افریقہ میں اسلام کی تبلیغ کی طرف توجہ دینے کی دعوت دی ہے وغیرہ وغیرہ۔مجھے اس جگہ حفیظ ملک صاحب کے اعتراض کا جواب دینا مقصود نہیں۔ان کے مضمون سے ظاہر ہے کہ وہ دل میں اسلام کا عمومی رنگ میں در در کھتے ہیں اور انہوں نے اس مضمون میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کی تعریف بھی کی ہے۔اس لئے میں اس مشتر کہ کام میں ان کے اعتراض سے کسی قسم کا تعرض نہیں کرنا چاہتا۔البتہ انہیں صرف اس قدر توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اگر وہ کم از کم حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی مختصر مگر مشہور تصنیف ” ایک غلطی کا ازالہ کا مطالعہ کرنے کی تکلیف گوارا فرمائیں تو انشاء اللہ ان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ جماعت احمد یہ نہ صرف یہ کہ خدا کے فضل سے ختم نبوت کے عقیدہ کی منکر نہیں بلکہ دل و جان سے اس عقیدہ پر فدا ہے اور سچے دل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین کرتی اور آپ کو افضل الرسل اور سید ولد آدم اور دائمی شریعت کا لانے والا آخری نبی مانتی ہے اور قرآنی شریعت میں کسی قسم کے رد و بدل کو قطعی طور پر ہلاکت کا موجب سمجھتی ہے۔وَاللهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ - بلکہ اگر محترم حفیظ ملک صاحب اس خاکسار کے رسالہ رسول پاک کا عدیم المثال مقام“ کا ہی مطالعہ فرماسکیں تو یقین ہے کہ ان جیسے سمجھ دار انسان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ختم نبوت کے متعلق ہمارا عقیدہ نہ صرف یہ کہ قرآنی تعلیم کے خلاف نہیں بلکہ امت محمدیہ کے اکثر اولیاء اور صلحاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے لے کر موجودہ زمانہ تک وہی عقیدہ رکھتے چلے آئے ہیں جو جماعت احمدیہ نے پیش کیا ہے۔اور جہاں تک ہمارے ایمان کا تعلق ہے خدا جانتا ہے کہ ہمارا رواں رواں محمد اور خدائے محمد اور دین محمد پر قربان ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں: بعد از خدا بعشق محمد مختمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم مگر خیر یہ تو محض ایک جملہ معترضہ تھا جو حفیظ ملک صاحب کی خدمت میں ایک غلط فہمی کے ازالہ کے لئے ضمناً پیش کیا گیا ہے۔اصل غرض ڈاکٹر بلی گراہم کے متعلق یہ کہنا ہے کہ انہوں نے قرعہ کے ذریعہ منتخب شدہ مریضوں کی شفایابی کے متعلق ہمارے نیروبی کے مبلغ کے چیلنج کے مقابلہ پر جوشکست کھائی ہے بلکہ جس رنگ میں روحانی مقابلہ سے فرار کا رستہ اختیار کیا ہے (تفصیل کے لئے دیکھو الفضل مؤرخہ 14 اپریل