مضامین بشیر (جلد 4) — Page 44
مضامین بشیر جلد چهارم 44 جب ہم منزل پر پہنچتے تھے تو چونکہ وہ زمانہ بہت سنتا تھا حضور مجھے کھانے کے لئے چار آنے کے پیسے دیتے تھے اور خود ایک آنہ کی دال روٹی منگوا کر یا چنے بھنوا کر گزارہ کرتے تھے۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 122 و 123 ) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔وہ بہت ممتاز صحابی میں سے تھے اور انہیں حضرت مسیح موعود کی قریب کی صحبت کا بہت لمبا موقع میسر آیا۔وہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ گرمی کا موسم تھا اور حضرت مسیح موعود کے اہلِ خانہ لدھیانہ گئے ہوئے تھے۔میں حضور کو ملنے اندرونِ خانہ گیا۔کمرہ نیا نیا بنا تھا اور ٹھنڈا تھا۔میں ایک چارپائی پر ذرا لیٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی۔حضور اس وقت کچھ تصنیف فرماتے ہوئے ٹہل رہے تھے۔جب میں چونک کر جاگا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود میری چار پائی کے پاس نیچے فرش پر لیٹے ہوئے تھے۔میں گھبرا کر ادب سے کھڑا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود نے بڑی محبت سے پوچھا مولوی صاحب! آپ کیوں اُٹھ بیٹھے؟ میں نے کہا حضور نیچے لیٹے ہوئے ہیں اور میں اوپر کیسے ہوسکتا ہوں؟ مسکرا کر فرمایا آپ بے تکلفی سے لیٹے رہیں میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔بچے شور کرتے تھے تو میں انہیں روکتا تھا تا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آئے۔اللہ اللہ ! ! شفقت کا کیا عالم تھا۔سیرت مسیح موعود مصنفہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب صفحہ 26) اب ذرا غریبوں اور سائلوں پر شفقت کا حال بھی سن لیجئے۔ایک وہمہحضرت مسیح موعود کے گھر میں کسی غریب عورت نے کچھ چاول چرا لئے۔لوگوں نے اسے دیکھ لیا اور شور پڑ گیا۔حضرت مسیح موعود اس وقت اپنے کمرہ میں کام کر رہے تھے۔شور سن کر باہر تشریف لائے تو یہ نظارہ دیکھا کہ ایک غریب عورت چیتھڑوں میں کھڑی ہے اور اس کے ہاتھ میں تھوڑے سے چاولوں کی گٹھڑی ہے۔حضرت مسیح موعود کو واقعہ کا علم ہوا اور اس غریب عورت کا حلیہ دیکھا تو آپ کا دل پسیج گیا۔فرمایا یہ بھوکی اور کنگال معلوم ہوتی ہے۔اسے کچھ نہ کہو بلکہ کچھ اور چاول دے کر رخصت کر دو۔سیرت مسیح موعود مصنفہ عرفانی صاحب حصہ اول صفحہ 98) اس واقعہ پر کوئی جلد باز شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ بات تو چوری پر دلیری پیدا کرنے والی ہے۔مگر دانا لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ جب مال خود حضرت مسیح موعود کا اپنا تھا اور لینے والی عورت ایک بھوکوں مرتی اور کنگال عورت تھی تو یہ چوری پر اعانت نہیں بلکہ حقیقتاً اطعام مسکین میں داخل ہے۔حدیثوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے حالات میں جبکہ چوری کرنے والا بہت غریب ہو اور انتہائی بھوک کی حالت میں