مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 27 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 27

مضامین بشیر جلد چهارم فرماتے ہیں کہ : عجب نوریست در جان محمد عجب لعلی است در کان محمد اگر خواہی خواہی دلیلے عاشقش باش بست برہان محمد دریں ره گر کشندم در بسوزند نتایم رو ز تو جان ما منور کر دی از عشق ایوان محمد فدایت جانم اے جانِ محمد 27 آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 649) یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں خدا نے عجیب نور ودیعت کر رکھا ہے اور آپ کی مقدس کان عجیب وغریب جواہرات سے بھری پڑی ہے۔اگر اے منکر و! تم محمد کی صداقت کی دلیل چاہتے ہو تو دلیلیں تو بے شمار ہیں مگر مختصر رستہ یہ ہے کہ اس کے عاشقوں میں داخل ہو جاؤ۔کیونکہ محمد کا وجود اس کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔واللہ! اگر آپ کے رستہ میں مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور میرے ذرہ ذرہ کو جلا کر خاک بنا دیا جائے تو پھر بھی میں آپ کے دروازے سے کبھی منہ نہیں موڑوں گا۔سوائے محمد کی جان! تجھ پر میری جان قربان تو نے میرے روئیں روئیں کو اپنے عشق سے منور کر رکھا ہے۔اسی طرح اپنی ایک عربی نظم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے فرماتے ہیں: أَنْظُرُ إِلَيــيَّ بِرَحْمَةٍ وَتَـحَـنَّـنٍ يَا سَيِّدِى أَنَا أَحْقَرُ الْغِلْمَانِ احِب إِنَّكَ قَدْ دَخُـلُــتَ مَحَبَّةُ فِي مُهْجَتِي وَمَدَارِكِي وَ جَنَانِي مِن ذِكْرِ وَجُهِكَ يَا حَدِيقَةً بَهْجَتِي لَمْ أَخْلُ فِي لَحْظٍ وَّلَا فِى أن