مضامین بشیر (جلد 4) — Page 464
مضامین بشیر جلد چهارم 464 بیہوشی کی حالت میں بستر میں پڑے تھے اور حافظ رمضان صاحب مسنون طریق پر ان کے قریب بیٹھے ہوئے سورہ کیس سنا رہے تھے تو عین اس وقت جبکہ حافظ صاحب قرآن مجید کی اس آیت پر پہنچے جو حضرت میر صاحب کے بچپن کے زمانہ میں ان کے متعلق حضرت مسیح موعود کو القاء ہوئی تھی یعنی سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیم تو حضرت میر صاحب نے آخری سانس لیا اور خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔گویا بچپن میں اس خدائی رحمت کے پیغام نے ان کے لئے دنیا کی زندگی کا دروازہ کھولا اور چالیس سال بعد بڑھاپے میں انہی قرآنی الفاظ میں خدا کے فرشتوں نے انہیں اخروی زندگی کے دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی۔بچپن کی بیماری میں حضرت مسیح موعود کے اس الہام نے ان کے لئے جسمانی صحت کا پیغام دیا اور زندگی کی آخری بیماری میں فرشتوں نے انہیں انہی الفاظ میں جنت کے دروزے پر کھڑے ہوکر اهلًا وَّ سَهْلًا کہا۔یقیناًیہ کوئی اتفاقی بات نہیں بلکہ خدائی قدرت و رحمت کا عجیب و غریب کرشمہ ہے جو خدا نے اپنے اس نیک اور مجاہد بندے کے لئے ظاہر فرمایا کہ شروع میں انہی الفاظ نے اسے بیماری کی حالت میں دنیوی زندگی کی بشارت دی اور پھر چالیس سال بعد انہی الفاظ کے ذریعہ اس کے لئے اخروی نعمتوں کا دروازہ کھول دیا۔دوست غور کریں کہ ہمارے علیم وخبیر خدا کا علم کتنا وسیع اور اس کی قدرت کتنی عجیب و غریب ہے کہ بجلی کے بٹن کی طرح ایک ہی سوچ (Switch) ایک وقت دنیا کی نعمتوں کا نظارہ دکھاتی ہے اور دوسرے وقت میں وہی سوچ پردہ اٹھا کر جنت الفردوس کا نظارہ پیش کر دیتی ہے۔اور یہ دونوں نظارے حضرت میر صاحب کے لئے خدا کی غیر معمولی رحمت اور حضرت مسیح موعود کی غیر معمولی جمالی شان سے معمور ہیں۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ و عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِكُ وَسَلِّمُ - 14 اب میں ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے رشتہ داروں بلکہ مخالف رشتہ داروں تک کے ساتھ کیسا رحیمانہ اور مشفقانہ سلوک تھا۔دراصل چھوٹے چھوٹے گھر یلو واقعات ہی زیادہ تر انسان کے اخلاق کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے بہترین معیار ہوتے ہیں کیونکہ اُن میں کسی قسم کے تکلف کا پہلو نہیں ہوتا اور انسان کی اصل فطرت بالکل عریاں ہو کر سامنے آجاتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنھا کے ساتھ اپنے نٹے بنے ہوئے حجرے میں اکٹھے کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ اُس وقت میں بھی اپنی بچپن کی عمر میں کسی