مضامین بشیر (جلد 4) — Page 259
مضامین بشیر جلد چهارم 259 میں لے آتے تھے کہ چلو پہلے حضرت مسیح موعود کے لنگر میں کھانا کھاؤ اور آرام کرو اور پھر کسی اور جگہ جانا۔مہمانوں کی خدمت اور ان کی دلداری اور ان کا اکرام حضرت میر صاحب مرحوم کی روح کی غذا تھی۔اگر کبھی صدرانجمن کا بجٹ ختم ہو جاتا تو وہ پھر بھی اپنی مہمانی کے فرائض اُسی محبت اور اُسی جوش و خروش سے جاری رکھتے اور پرائیویٹ چندہ کے ذریعہ مالی کمی کو پورا کر لیتے اور ان کے چندوں کی اپیل ہمیشہ کامیاب رہتی تھی۔ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ ہونے کی حیثیت میں بھی حضرت میر محمد اسحاق صاحب کا کام بڑا نمایاں اور شاندار تھا۔وہ مدرسہ کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ، ان سے محبت کرتے ، ان کی دلداری کرتے ، ان کی خدمت کرتے اور غریب بچوں کی مالی امداد کا انتظام بھی کرتے۔اور اگر کہیں سفر پر جاتے تو بعض بچوں کو تربیت کی خاطر اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور اپنے عزیزوں کی طرح ان کا خیال رکھتے۔ان کے زمانہ کی یہ ایک خصوصیت تھی کہ چونکہ حضرت میر صاحب خود تقریر کے فن میں کمال رکھتے تھے اس لئے ان کی تربیت میں کئی بچے بہت عمدہ مقرر اور عمدہ مناظر بن گئے۔اور نوجوان طلباء کی ہمتیں اتنی بلند ہو گئیں کہ کہنہ مشق مولویوں اور پادریوں اور پنڈتوں کے ساتھ ٹکر لینے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔درس و تدریس کا بھی حضرت میر صاحب کو بے حد شوق بلکہ عشق تھا۔ان کا حدیث کا درس اب تک سننے والوں کے کانوں میں گونج پیدا کر کے ان کے دلوں کو گرما رہا ہے اور ان کی نگاہیں اس ذوق و شوق اور محبت سے درس دینے والے کو بے تابی سے ڈھونڈتی ہیں مگر نہیں پاتیں۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی ایک خاص یادگار دار الشیوخ تھی۔جس میں غریب اور معذور بچے بلکہ بعض بوڑھے بھی کافی تعداد میں رہتے تھے اور حضرت میر صاحب اپنی پرائیویٹ کوشش کے ذریعہ ان کے اخراجات وغیرہ مہیا کر کے انہیں تعلیم دلاتے تھے اور اپنے عزیزوں کی طرح ان کی دیکھ بھال کرتے تھے اور نابینا بچوں کو قرآن مجید کے حفظ کرانے کا انتظام بھی کرتے تھے۔حافظ محمد رمضان صاحب جن کی رمضان کے مہینے میں کئی شہروں کی طرف سے مانگ رہتی ہے وہ حضرت میر صاحب مرحوم کی کریمانہ اور رحیمانہ توجہ ہی کا ایک پھل ہیں۔افسوس کہ حضرت میر صاحب کی عمر نے زیادہ وفا نہیں کی اور وہ چون 54 سال کی عمر میں ہی جو ایک طرح سے گویا جوانی کی عمر ہے جماعت کو داغ مفارقت دے گئے۔ان کی وفات سے تعلق رکھنے والا ایک واقعہ مجھے نہیں بھولتا۔جب حضرت میر صاحب اپنے بچپن کے زمانہ میں ایک دفعہ بیمار ہوئے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعا کرنے پر حضور کو ان کے متعلق قرآنی آیت کے الفاظ میں یہ الہام ہوا تھا کہ