مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 207 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 207

مضامین بشیر جلد چہارم 207 کی جائے کہ وہ اپنی آمد کے مطابق صحیح صحیح چندہ ادا کرتے ہیں یا نہیں۔چندہ کے معاملے میں زیادہ خرابی اسی حصہ میں واقع ہوتی ہے بعض کمزور ایمان لوگ اپنی آمد بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے کہ آپ لوگ بیعت کرتے ہوئے اقرار کر چکے ہیں کہ ” میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا اس لئے آپ کا یہ سودا خدا کے ساتھ ہے اور خدا کے ساتھ سودا کر کے دھو کا کرنے والا بالآخر کبھی کامیاب اور با مراد نہیں ہوتا۔(4) جو نئے دوست جماعت میں داخل ہوتے ہیں انہیں شروع سے ہی چندوں کا عادی بنایا جائے۔یہ پالیسی درست نہیں ہے کہ نئے لوگوں کے ساتھ چندوں کے معاملہ میں نرمی کرنی چاہئے۔جو لوگ ایک دفعہ رعایت کے عادی ہو جائیں وہ پھر الا ماشاء اللہ ہمیشہ رعایت کے ہی طالب رہتے ہیں۔پس نئے دوستوں کو شروع میں ہی چندوں کا فلسفہ سمجھا کر اور مناسب رنگ میں تحریک کر کے چندوں کا عادی بنانا چاہئے۔(5) عورتوں سے بھی باقاعدہ چندہ وصول کیا جائے۔یہ خیال درست نہیں ہے کہ چونکہ عورتوں کی آمدنی خاوندوں کی طرف سے آتی ہے اور خاوند اپنی آمدنی پر چندہ پہلے ہی دے دیتے ہیں اس لئے عورتوں پر چندہ واجب نہیں۔خدا کے سامنے ہر شخص اپنے اعمال کا جدا گانہ حساب رکھتا ہے اور ہر شخص کو اپنی اپنی قبر میں جاتا ہے۔پس ہر شخص (کو) خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو خدمت دین میں بذات خود حصہ لینا چاہئے۔جہاں عورتوں کو ان کے خاوندوں کی طرف سے جیب خرچ ملتا ہے وہاں وہ اس جیب خرچ میں سے چندہ دیں (جیسا کہ وہ ذاتی وصیت کی صورت میں چندہ وصیت دیتی ہیں ) اور جن عورتوں کو کوئی معین جیب خرچ نہیں ملتا وہ اپنے ذاتی خرچ کا اندازہ کر کے چندہ دے دیا کریں بلکہ حق یہ ہے کہ تربیتی نقطہ نگاہ سے عورتوں میں خدمت دین کا براہِ راست جذبہ پیدا کرنا مردوں کی نسبت بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ ان کی گودوں میں قوم کے نونہال پلتے ہیں۔اگر وہ دین دار اور خادمِ دین ہوں گی تو لازماً ان کی اولاد پر بھی ان کی نیکی کا اثر ہوگا۔بچپن میں اولا د پر ماں کا اثر باپ کی نسبت یقینا زیادہ ہوتا ہے۔(6) چھٹا اور سب سے زیادہ پختہ ذریعہ چندوں کی ترقی کا جماعت کی تربیت ہے۔اب جماعت پر وہ زمانہ ہے کہ جب براہِ راست بیعت کرنے والے احمدیوں کے مقابل پر نسلی احمدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ظاہر ہے کہ نسلی بیعت میں بالعموم وہ طاقت نہیں ہوتی جو ایسی بیعت میں ہوتی ہے جو خو د سوچ سمجھ کر علی وجہ البصیرت کی جائے۔براہِ راست بیعت ایسے درخت کا حکم رکھتی ہے جو پیوند کے ذریعہ تیار ہوتا ہے لیکن نسلی