مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 62 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 62

مضامین بشیر جلد چهارم 62 1960 ء ) وہ انشاء اللہ ان کے مزعومہ سحر کے تار پور کے بکھیرنے کا آغاز ثابت ہوگا۔انہوں نے ایک عرصہ سے مسیحی دنیا پر یہ اثر پیدا کر رکھا ہے کہ گویا انہیں غیر معمولی روحانی طاقت حاصل ہے جس سے وہ لوگوں کے دلوں کو مسخر کرتے اور بیماروں کو شفا دیتے ہیں۔مگر نیروبی میں ہمارے رئیس التبلیغ شیخ مبارک احمد صاحب کے چیلنج نے اور پھر اس چیلنج پر ڈاکٹر بلی گراہم کے کھلم کھلا فرار نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یا تو ان کا دعوی سرے سے ہی باطل تھا اور یا ان کا اثر صرف طاقت لسان اور کسی قدر ہینوٹزم ( یعنی علم توجہ ) تک محدود تھا۔جو ساحران فرعون کی طرح محمدی تعصا کی ضرب سے ٹوٹ پھوٹ گیا۔ایک مشہور حدیث میں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْراً ( بخاری كتاب النکاح باب الخطبة ) یعنی بعض قسم کی تقریر وتحریر میں فصاحت و بلاغت کے زور کی وجہ سے ایک گونہ سحر یعنی جادو کا سا اثر پیدا ہو جاتا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی قرآن مجید صراحت سے فرماتا ہے کہ لَا يُفْلِحُ الشجرُ حَيْثُ آتی (طه: 70) یعنی حق کے مقابلہ پر اس قسم کا جادو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔دوسری طرف سائنس کے علوم اور دنیا کے تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ ہپنوٹزم ( یعنی علم توجہ ) بھی خدا کے پیدا کردہ علموں میں سے ایک علم ہے۔جس سے بعض اوقات ایک مشاق انسان جو بعض دوسرے لوگوں کے مقابل پر دل و دماغ کی فائق طاقتوں کا حامل ہوتا ہے ایک کمزور دل والے انسان پر اپنی توجہ کا اثر ڈال کر اس سے وقتی طور پر بعض خاص قسم کی حرکات کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے یا بعض خاص قسم کی بیماریوں کو شفا دے سکتا ہے۔(اس کے لئے دیکھو خاکسار کا مضمون آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مزعومہ سر کا واقعہ مندرجہ الفضل مؤرخہ 3 جولائی 1959ء) اور یاد رکھنا چاہئے کہ ہمپوٹزم (یعنی علم توجہ ) کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو بعض لوگوں کو کسی قسم کے عشق کے بغیر قدرتی طور پر حاصل ہوتی ہے۔مگر یہ قسم عموماً کچھ عرصہ کے بعد خود بخود ختم ہو جاتی ہے اور مجھے ذاتی طور پر اس کی بعض مثالیں معلوم ہیں۔مگر بہر حال اس علم کو روحانیت سے کوئی تعلق نہیں۔بلکہ مشق وغیرہ کے ساتھ ہر انسان اس میں کم و بیش مہارت حاصل کر سکتا ہے۔جس کے لئے مسلمان یا ہند و یا عیسائی یا بدھ یا سکھ وغیرہ کی کوئی خصوصیت نہیں۔مگر جب ایسا شخص جب کسی ایسے خدا رسیدہ انسان کے مقابلہ پر آتا ہے جسے خدا کی نصرت اور روح القدس کی تائید حاصل ہوتی ہے تو اس کا سارا سحر دھواں ہو کر اڑ جاتا ہے۔چنانچہ جیسا کہ میں اپنے مذکورہ بالا سحر والے مضمون میں لکھ چکا ہوں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک ہندو جو غالباً گجرات کا