مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 55 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 55

مضامین بشیر جلد چهارم بکوشید اے جواناں تابدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا محرره 29 فروری 1960ء) 55 (روزنامه الفضل 3 مارچ 1960ء) رمضان کی برکات گزشتہ پچھپیں تھیں سالوں میں یہ عاجز قریباً ہر سال رمضان کے مہینہ میں دوستوں کی یاد دہانی کے لئے خصوصاً بعض نصائح لکھتا رہا ہے۔مگر اس سال جلسہ سالانہ کے بعد سے طبیعت کچھ ایسی خراب چلی آرہی ہے کہ کسی لمبے مضمون کو لکھنے کی ہمت نہیں پیدا ہوتی۔اس لئے محض ثواب کی نیت سے ذیل کے چند کلمات لکھ رہا ہوں۔امید ہے جو دوست ان کلمات کو غور سے پڑھیں گے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے وہ انشاء اللہ رمضان کی برکات سے محروم نہیں رہیں گے۔(1) یا د رکھنا چاہئے کہ رمضان ایک بڑا ہی مبارک مہینہ ہے جو انسان کے دل میں ایک طرف محبتِ الہی کی تپش اور دوسری طرف مخلوق خدا کی ہمدردی اور شفقت پیدا کرنے کی خاص الخاص صلاحیت رکھتا ہے۔(2) اس مبارک مہینہ میں تمام وہ صفات اور تاثیرات بصورت اتم ہیں جو ہمارے دین اور مذہب میں عبادت کی جان ہیں۔یعنی نماز اور روزہ اور دعا اور ذکر الہی اور تلاوت کلام پاک اور صدقہ اور خیرات۔اور اس مہینہ کے آخر میں ایک مخصوص عشرہ انقطاع مِنَ الدُّنْیا اور اِنْقِطَاعٌ إِلَی اللہ کا مقرر کر کے اور پھر اس عشرہ میں ایک مخصوص رات کو دعاؤں اور ذکر الہی کے لئے کلیتہ وقف کر کے رمضان کی عبادتوں میں گویا ایک گونہ معراج کی سی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔(3) پس دوستوں کو چاہئے کہ رمضان کی ان ساری برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں اور حتی الوسع شرعی عذر ( بیماری اور سفر ) کے بغیر روزہ ہرگز ترک نہ کریں۔اور شرعی عذر کی صورت میں اپنی حیثیت کے مطابق مسنون طریق پر فدیہ دیں۔(4) اس مہینہ میں مقررہ پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ نماز تہجد کا بھی خاص التزام کیا جائے اور جن دوستوں کو توفیق ملے وہ نماز ضحی بھی پڑھنے کی کوشش کریں۔جو دن کے لمبے ناغہ میں ذکر الہی کا موقع پانے اور