مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 536 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 536

مضامین بشیر جلد چهارم 536 نام میں ہی میں نے ہمیشہ یہ اشارہ سمجھا ہے کہ مصلح موعود نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودہ اولاد میں سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے ساتھ ملے ہوئے ظاہر ہونا تھا اور آپ کا خلیفہ بننا تھا۔جس طرح کہ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب اور حضرت یوسف اپنے بزرگ باپ حضرت ابراہیم کے خلیفہ ہوئے اور کیا عجب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتوں میں سے بھی کسی سعید روح کے لئے اس ابرا تیمی پہلو کا مظہر بنا مقدر ہو وَالْغَيْبُ عِندَ اللهِ وَقَالَ اللهُ تَعَالَى إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ نَافِلَةٌ لَكَ وَ لَعَلَّ اللَّهُ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِكَ أَمْراً - مصلح موعود کی علامات خواہ وہ اس کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں یا اس کے ذاتی اوصاف سے یا اس کے کام سے (اور یہی علامات کے تین اہم پہلو ہیں) سب اس قدر صاف اور واضح ہیں کہ اس بارے میں سوائے ایسے شخص کے جس نے خود تعصب کو اپنا و تیرہ بنا رکھا ہو کوئی عقلمند انسان شک وشبہ کی گنجائش نہیں پاتا بلکہ اگر غور کیا جائے تو مصلح موعود کی علامات مسیح موعود کی علامات سے بھی زیادہ صاف اور نمایاں ہیں۔کیونکہ جہاں مسیح موعود کی علامات اکثر صورتوں میں زبانی روایتوں کے ذریعہ صدیوں کی مسافت طے کر کے ہمیں پہنچی ہیں جس کی وجہ سے غلطی اور غلط فہمی کا امکان بہت بڑھ گیا ہے۔وہاں مصلح موعود کی علامات خدا کی تازہ بتازہ وحی کے ذریعہ ساتھ ساتھ تحریر میں آکر ہماری آنکھوں کے بالکل سامنے موجود ہیں۔پس علامات کا سوال میرے نزدیک زیادہ بحث طلب نہیں اور اسی لئے میں اس جگہ اس بحث میں نہیں جاتا اور نہ موجودہ مضمون کی گنجائش کے لحاظ سے اس جگہ اس بحث میں جا سکتا ہوں مگر میں ایک اصولی بات جو غالبا کئی دوستوں کے لئے نئی ہوگی، کہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔لوگوں کا یہ خیال ہے اور درست خیال ہے اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس کی صراحت فرمائی ہے بلکہ اپنے اس خیال کی بنیاد الہام پر رکھی ہے کہ جو پیشگوئی 20 فروری 1886ء کے اشتہار میں مصلح موعود کے بارے میں درج ہے۔وہ دولڑکوں کے متعلق ہے۔ایک بشیر اول کے متعلق ، جس کے ساتھ ان الہامات کا ابتدائی حصہ تعلق رکھتا ہے اور دوسرے مصلح موعود کے متعلق جس کے ساتھ بعد کے الہامات کا تعلق ہے۔جو ان الفاظ سے شروع ہوتے ہیں کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا مگر اول تو ساری الہامی عبارت پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ بشیر اول کے ساتھ تعلق رکھنے والا الہام صرف ایک درمیانی پیرے میں بیان ہوا ہے اور اوپر اور نیچے ہر دو جگہ مصلح موعود کا ذکر ہے۔علاوہ ازیں میرا یقین ہے کہ در حقیقت یہ سارے الہامات معہ درمیانی پیرے کے مصلح موعود ہی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ بعض الفاظ بشیر اول کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتے ہیں اور مصلح