مضامین بشیر (جلد 4) — Page 475
مضامین بشیر جلد چهارم 475 ہے کہ پھر بھی میرے اس عشق و محبت الہی اور خدمت دین میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔اس لئے کہ میں تو اسے دیکھ چکا ہوں اور پھر آپ نے یہ قرآنی آیت پڑھی کہ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا ( یعنی کیا خدا جیسا بھی کوئی اور ہے جسے محبت کا حقدار سمجھا جا سکے؟) سیرت مسیح موعود مصنفہ مولوی عبد الکریم صاحب) باقی رہی رسول کی محبت سودہ خدا کی محبت کا حصہ اور اسی کا ظل ہے۔اور ناممکن ہے کہ ایک سچا مومن خدا کی محبت سے تو سرشار ہو مگر خدا کے بھیجے ہوئے افضل الرسل کی محبت سے محروم رہے۔بہر حال یہ وہ بہشت ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود نے جزا سزا کے خیال سے بالکل بالا ہو کر دین کی خدمت کی اور اسلام کا بول بالا کرنے کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دی اور یہی وہ بہشت ہے جس میں حضور اپنے آقا اور مقتدا اور محبوب حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جزا سزا کے دن خدا کے فضل سے جگہ پائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک نظم میں خدا کی محبت کے گن گاتے ہوئے کیا خوب فرمایا ہے کہ۔ہر اک عاشق نے ہے اک بُت بنایا ہمارے دل میں دلیر سمایا وہی آرام جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں ربُّ البرایا مجھے اس یار سے وہی پیوند جاں ہے جنت وہی دار الاماں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے بے شک اُخروی زندگی کی جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے اور مومن اور کا فراپنے اپنے ایمان اور اعمال کے مطابق اس جنت و دوزخ میں جگہ پائیں گے مگر نبیوں اور رسولوں کی حقیقی جنت صرف خدا کی محبت اور خدا کے عشق میں ہوتی ہے بلکہ عام صلحاء کے لئے بھی اصل مقام رضائے الہی کا ہے اسی لئے قرآن مجید میں جنت کی عام نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد رضوانِ الہی کا خاص طور پر علیحدہ صورت میں ذکر کیا گیا ہے جیسا که فرمایا وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللهِ اَكْبَرُ (سورہ توبہ آیت 72) یعنی جنت کی نعمتوں میں خدا کی رضاسب سے اعلی نعمت ہے اور یہی ہر سچے مومن کے سلوک کا منتہی ہونا چاہئے کہ وہ حور و قصور کی جنت کے پیچھے لگنے کی بجائے خالق ارض وسما کی بے لوث محبت کی فضاؤں میں بسیرا کرے۔