مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 415 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 415

مضامین بشیر جلد چهارم 415 چاہئے۔وہ کوئی کام نقالی کے طریق پر ہر گز نہ کریں اور اپنے لباس اور جسم کی زینت میں ایسا انہاک نہ دکھا ئیں جس سے یہ شبہ ہو کہ وہ دوسری قوموں کی اندھی تقلید کر رہے ہیں۔اور گویا یہی زیب وزینت ان کی زندگی کا مقصد ہے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے کیا خوب فرمایا ہے کہ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ۔یعنی جو شخص کسی دوسری قوم کی کورانہ تقلید کرتا ہے وہ انہی میں سے سمجھا جائے گا۔ٹیڈی ازم کی لعنت آجکل کالج کے لڑکوں اور لڑکیوں میں ایک گندی مرض چل نکلی ہے جسے ٹیڈی ازم کہتے ہیں۔یعنی تنگ قمیض استعمال کرنا اور ایسی تنگ پتلون پہننا کہ گویا وہ سولہ بور کی بندوق کی دو پتیلی نالیاں ہیں۔یہ سب نقالی کے بد ترین طریق ہیں اور اس ماحول میں پڑ کر انسان طبعا بُری صحبت اور بُری عادتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور احمدی بچوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔سادہ زندگی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ قول مجھے کبھی نہیں بھولتا اور ہمیشہ کانوں میں گونجتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو وہ لوگ بہت پسند ہیں جو دنیا میں سادہ زندگی گزارتے ہیں یعنی خوراک میں بھی سادگی اور عادات میں بھی سادگی۔اور اگر غور کیا جائے تو در حقیقت سادگی کے بغیر اسلامی اخوت کی روح کا زندہ رکھنا بھی محال ہے۔بھلا وہ دو مسلمان کس طرح آپس میں بھائی بھائی کے طور پر مل سکتے ہیں جن میں سے ایک کا قدم تو فیشن پرستی کی وجہ سے آسمان پر ہو اور دوسرا زمین پر خاک میں لت پت ہو رہا ہو۔بے شک مال اور دولت کا فرق ہوتا ہے اور شاید قیامت تک رہے گا مگر انسان سادہ زندگی کے ذریعہ اس فرق کے اخلاقی نقصانات سے بڑی حد تک بیچ سکتا ہے۔یہ وہی سبق ہے جو اسلام نے نماز کے متعلق دیا ہے کہ خدا کے سامنے حاضر ہوتے ہوئے امیر وغریب کے فرق کے بغیر سب مل جل کر ایک صف میں کھڑے ہو جاؤ۔جو پہلے آتا ہے وہ پہلے کھڑا ہو جائے اور جو بعد میں آتا ہے وہ بعد میں کھڑا ہو۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے مختلف صحابہ میں مال و دولت کے لحاظ سے کافی فرق تھا مگر اپنی سادہ زندگی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے ایسے ملتے تھے گویاوہ سگے بھائی ہیں۔حضرت بلال ایک حبشی غلام تھے۔سیاہ فام اور جاہلیت کے زمانہ میں مکہ کے مشرک سرداروں کی ایڑیوں کے نیچے مسلے جانے والے۔مگر اسلام نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ حضرت عمران کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ بلال تو ہمارا سردار ہے۔مال و دولت کا امتیاز صرف دولت کے سمونے سے نہیں ملتا بلکہ اس اخوت کی