مضامین بشیر (جلد 4) — Page iv
iv بَرَّقَ طِفْلِی بَشِيرٌ جس کے ایک ہفتہ بعد اللہ تعالی کے فضل سے آپ کو معجزانہ شفا عطا ہوئی۔برق کے لغوی معنی وسعت، بصیرت اور روشن نظر ہونے کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو عظیم الشان دینی و علمی استعدادوں سے نوازا تھا۔آپ نے دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی خوب حاصل کی اور ہر میدان میں اپنی علمیت و قابلیت کا سکہ منوایا۔قرآن کی تفسیر ہو یا کسی حدیث کی تشریح ، سیرت کی بات ہو یا تاریخ کا کوئی واقعہ اپنی محققانہ رائے سے ہر پیچیدہ مسئلہ کو حل کر کے اسے آسان فہم انداز میں پیش فرمایا۔سیرت خاتم النبین ، چالیس جواہر پارے، ہمارا خدا، تبلیغ ہدایت، حجۃ البالغہ اور سلسلہ احمدیہ بطور مشتے از خروارے اس کے عمدہ نمونے ہیں۔آپ نے اپنے قلم کے نور سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی و براہین کو ایسے مدلل انداز سے پیش کیا کہ ان کو چار چاند لگا دیئے اور یوں يُنيرُ بُرْهَانَكَ کے صحیح مصداق ٹھہرے۔آپ کی تحریر اثر انگیز ، سلیس، عام فہم اور ایسی مربوط ہوتی کہ قاری آپ کی تحریر میں ایسا مگن ہوتا کہ وہ اپنے آپ کو اسی ماحول میں محسوس کرتا ہے جس کا ذکر ہورہا ہو۔الغرض حضرت میاں صاحب کے یہ علمی خزانے مختلف مضامین کی صورت میں جماعتی کتب ورسائل میں موجود ہیں۔جن سے آپ نے جماعت کی علمی پیاس بجھائی۔تربیتی مضامین سے زیادہ تر جماعت کی تعلیم و تربیت کے پہلو آپ کے پیش نظر ہوتے تھے۔آپ کے اس علمی و تربیتی و روحانی مائدہ کا سلسلہ 1913ء سے 1963 ء، 50 سال تک جاری رہا اور افراد جماعت اس چشمہ علم ومعرفت سے خوب فیضیاب ہوتے رہے۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے دور میں ان مضامین کو کتابی صورت دینے کا بیڑا اٹھایا اور مضامین بشیر جلد اول 2007ء میں اور جلد دوم 2011ء میں شائع ہوئیں۔کتاب ہذا کی جلد سوم میں حضرت میاں صاحب کے 1951 ء سے لے کر 1959 ء کے مضامین اور جلد چہارم میں 1960 ء تا 1963ء میں الفضل اور دیگر اخبار و رسائل میں شائع ہونے والے 400 سے بھی زیادہ مضامین یکجا کر کے کتابی صورت میں پیش کئے جارہے ہیں۔1950 ء سے قبل الفضل کے علاوہ دیگر اخبار و رسائل میں شائع ہونے والے مضامین ( جو قبل از میں جلد اول اور دوم کا حصہ نہ بن سکے تھے ) باب پنجم میں بطور ضمیمہ شامل کئے گئے ہیں۔اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ایک مضمون اسلامی خلافت کا نظریہ پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے 3 اپریل 1952ء کے الفضل میں جماعتی موقف دو