مضامین بشیر (جلد 4) — Page 309
مضامین بشیر جلد چهارم کی اطلاع ملنے پر لکھا کہ۔309 ”اے عبداللطیف! تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا۔اور جولوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گئے“۔(تذکرۃ الشهادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 60) اس مقصد کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو بنیادی باتوں پر انتہائی زور دیا۔ایک خدا تعالیٰ کی کامل توحید پر ایمان لانا۔اور دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لا کر آپ کے ساتھ کامل محبت اور آپ کی اطاعت کا سچا عہد کرنا۔اور یہی وہ دو باتیں ہیں جن کی کلمہ طیبہ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ میں تعلیم دی گئی ہے۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان لانے کے بغیر انسان حقیقی تو حید کا سبق کبھی نہیں سیکھ سکتا۔نیچر کا مطالعہ اور عقلی دلیلیں انسان کو صرف اس حد تک لے جاتی ہیں کہ کوئی ”خدا ہونا چاہئے لیکن اس کے آگے یہ مقام کہ ”خدا واقعی موجود ہے“ رسولوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ ” ہونا چاہئے اور ” ہے، میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔کیونکہ جہاں ہونا چاہئے“ کا مقام محض شک یا زیادہ سے زیادہ گمان غالب کا مقام ہے وہاں ” ہے“ کا مقام مستحکم یقین کا مقام ہے اور ان دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔پھر رسولوں میں سے اپنے آقا اور مطاع اور محبوب حضرت خاتم النبین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حضرت مسیح موعود کا دل خاص طور پر اس پختہ یقین سے معمور تھا کہ چونکہ پہلے تمام نبی اور رسول صرف خاص خاص قوموں اور خاص خاص زمانوں کے لئے آئے تھے اور اس کے مقابل پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے ہے اس لئے کامل توحید الہی کا سبق دنیا کو صرف آپ ہی کے وجود باجود کے ذریعہ حاصل ہوا ہے اور پہلا کوئی نبی ایسا مکمل سبق نہیں دے سکا۔چنانچہ ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی محبت کے ساتھ فرماتے ہیں۔سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اک قمر ہے اُس پر ہر اک نظر ہے بدر الرجی یہی ہے