مضامین بشیر (جلد 4) — Page 8
مضامین بشیر جلد چهارم نے آپ کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے پہلے تو رہ میں ہائے پار اس نے ہیں اتارے میں جاؤں اس کے وارے بس ناخدا یہی ہے 8 لاریب اس زمانہ میں اور اس کے بعد قیامت تک بنی نوع انسان کے لئے اب صرف آپ ہی ایک ناخدا ہیں جن کی کشتی میں بیٹھ کر انسان خدا کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے یا وہ ہے جس نے آپ کے فیض سے فیض پایا ہو۔باقی سب تاریکی ہے اور ان کے پیچھے لگ کر رستہ میں ہارنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔اللهمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكُ وَسَلَّمَ - يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا- (الاحزاب:57) ( محرره 12 جنوری 1960ء) (ماہنامہ الفرقان ربوہ جنوری، فروری 1960ء) عزیز بشارت احمد کی حسرت ناک وفات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے عزیز بشارت احمد ابن مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب امیر جماعت احمد یہ قادیان کی وفات کی خبر الفضل میں بھجواتے ہوئے آپ کے اوصاف کا یوں ذکر فرمایا۔مرحوم بہت مخلص اور موصی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیم ترین صحابی حضرت شیخ حامد علی صاحب مرحوم کا نواسہ تھا اور میری رضاعی بہن کا لڑکا تھا۔( محررہ 7 فروری 1960ء) روزنامه الفضل ربوہ 9 فروری 1960ء)