مضامین بشیر (جلد 4) — Page 179
مضامین بشیر جلد چہارم حضرت منشی صاحب بڑی نکتہ رس طبیعت کے بزرگ تھے بے ساختہ عرض کیا: 66 179 حضرت میں سمجھ گیا ہوں۔یہ ایک ایسا علم ہے جسے حقیقی روحانیت سے واقعی کوئی تعلق نہیں۔“ حضرت منشی احمد جان صاحب وہی بزرگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اعلیٰ روحانی مقام کو شناخت کر کے اور دنیا کی موجودہ ابتر حالت کو دیکھتے ہوئے حضور کے دعوئی اور سلسلہ بیعت سے بھی پہلے حضور کو مخاطب کر کے یہ شعر کہا تھا کہ : ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے حضرت مسیح موعود تو خدا کی قدرت نمائی سے مسیح بن گئے مگر افسوس کہ حضرت منشی صاحب اس سے پہلے ہی اس دار فانی سے کوچ کر کے اپنے مولیٰ کے حضور جا پہنچے۔25% (سیرت المہدی حصہ اوّل روایت نمبر 143) دوستو! جیسا کہ میں شروع میں بیان کر چکا ہوں میرے اس مضمون کا عنوان ”در منثور“ ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عادات اور خاص خاص اقوال کے متعلق غیر مرتب موتی۔اس لئے اس میں کسی ترتیب کا خیال نہ کریں۔خدا تعالیٰ نے بعض صورتوں میں بکھری ہوئی چیزوں میں بھی غیر معمولی زینت ودیعت کر رکھی ہے۔چنانچہ آسمان کے ستارے بظاہر بالکل غیر مرتب صورت میں بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں مگر ان میں اتنی خوبصورتی اور اتنی جاذبیت ہے کہ تاروں بھری رات کا نظارہ بعض اوقات انسان کو مسحور کر دیتا ہے۔اسی طرح قرآن مجید نے اہل جنت کے نو خیز خدمت گاروں کے متعلق لولُوا مَنْشُوراً کا لفظ استعمال کیا ہے۔یعنی وہ اپنی خادمانہ مصروفیت میں اِدھر اُدھر گھومتے ہوئے یوں نظر آئیں گے کہ گویا کسی نے مجلس میں موتیوں کا چھینٹا دے رکھا ہے۔خالق فطرت حسن و جمال کی آرائشوں کو سب سے بہتر سمجھتا ہے۔اس کی بنائی ہوئی چیزوں میں خواہ وہ مرتب ہیں یا بظاہر غیر مرتب بہترین حسن کا نظارہ پایا جاتا ہے اور اس کی یہ بھی سنت ہے کہ بعض اوقات وہ اپنے بندوں کو جلال (Majesty) کے ذریعہ سے مسحور کرتا ہے اور بعض اوقات جمال (Beauty) کے ذریعہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔چنانچہ اس کے رسولوں اور رسولوں کے خلیفوں میں بھی جلال و جمال کا لطیف دور نظر آتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جلالی نبی تھے مگر ان کے آخری خلیفہ حضرت عیسی علیہ السلام جمالی صفات لے کر مبعوث ہوئے۔اسی طرح ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم