مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 161 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 161

مضامین بشیر جلد چهارم 161 بہت زیادہ زور دیتے تھے۔کیونکہ صرف ایک بات کے ثابت ہونے سے ہی عیسائیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔یعنی وفات مسیح کے نتیجہ میں نہ تو الوہیت مسیح باقی رہتی ہے اور نہ تثلیث کا نام ونشان قائم رہتا ہے اور نہ کفارہ کا مسئلہ اپنی بودی ٹانگوں پر کھڑا رہ سکتا ہے۔بیشک وفات مسیح ناصرٹی کا عقیدہ طبعاً حضرت مسیح موعود کی اپنی صداقت کے ثبوت کے لئے بھی ایک پہلا زینہ ہے۔مگر اس مسئلہ کی اصل اہمیت جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود اس پر زیادہ زور دیتے تھے وہ موجودہ مسیحیت کے کھنڈن سے تعلق رکھتی ہے۔چنانچہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ: تم مسیح کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے (الحکم اگست 1908ء) کاش ہمارے دوسرے مسلمان بھائی اس نکتہ کو سمجھ کر کم از کم مسیحیت کے مقابلہ میں تو ہمارے ہمنوا ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود کے دعوے کو ماننا یا نہ ماننا دوسری بات ہے۔مسیحیت کے باطل عقائد اور اس زمانہ میں ان عقائد کے عالمگیر انتشار کا حضرت مسیح موعود کے دل پر اتنا بوجھ تھا کہ آپ ایک جگہ درد و کرب سے بے قرار ہو کر بڑے جلال سے فرماتے ہیں کہ: میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاری کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مُردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے۔اس سے بڑھ کر اور کون سا دلی درد کا مقام ہو گا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مشتِ خاک کو رب العالمین سمجھا گیا ہے۔میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر و توانا خدا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر تو حید کی فتح ہے۔۔۔اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا۔وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی تو حید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں، ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی خدا کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں مگر مسیح ایک اور بھی ہے جو اس وقت بول رہا ہے۔خدا کی غیرت دکھلا رہی ہے کہ اس کا کوئی ثانی نہیں مگر انسان کا ثانی موجود ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 7-8 12 وہ اسی تعلق میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایک دلچسپ روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ