مضامین بشیر (جلد 4) — Page 51
مضامین بشیر جلد چهارم 51 ملکہ بھی ایسا عطا کیا تھا کہ بہت جلد اپنی تبلیغ سے دوسرے کا دل صداقت کے حق میں جیت لیتے تھے اور زمینداروں پر تو گویا ان کا جادو چلتا تھا۔پھر ملکانہ کے علاقہ میں بھی وہ سالہا سال جماعت کی تبلیغی مہم کے نگران اور قائد رہے۔اور انہوں نے ایک بہت لمبے عرصے تک مرکزی ناظر دعوۃ و تبلیغ اور ناظر اعلیٰ کے فرائض بھی بڑی کامیابی کے ساتھ ادا کئے اور مقامی تبلیغ کے تو وہ گویا ہیرو تھے جن کے ہاتھ پر بے شمار لوگوں نے صداقت کو قبول کیا۔چوہدری صاحب بڑے سادہ مزاج اور بہت بے تکلف طبیعت کے بزرگ تھے۔اور گو وہ کام کی تفصیلات کو بعض اوقات بھول جاتے تھے مگر اصولی امور میں وہ حقیقتاً غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے اور ان امور میں ان کی نظر بعض اوقات اتنی گہری جاتی تھی کہ حیرت ہوتی تھی کہ ایسی سادہ طبیعت کا انسان اصولی امور میں اتنا ذہین اور اتنا دور رس ہے۔چوہدری صاحب کو ملکی تقسیم کے ایام میں ہندو سیاست کا شکار بن کر قید بھی ہونا پڑا۔مگر اس قید کا زمانہ بھی انہوں نے کمال صبر اور بشاشت سے برداشت کیا۔بلکہ جیل خانہ میں بھی کئی لوگوں کو (جن میں بعض کافی مخالف تھے ) اپنی مخلصانہ تبلیغ سے رام کر لیا۔گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں چوہدری صاحب بالکل نوعمر بلکہ طالب علم تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ انہیں ذاتی تعارف کا شرف حاصل تھا اور حضور ان کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ایک دفعہ کسی سفر میں مصاحت کا سوال تھا تو ساتھ جانے والوں کی فہرست دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود کہہ کر چوہدری صاحب کا نام لکھوایا بلکہ نام لکھنے والوں سے کہا کہ شائد آپ لوگوں نے فتح محمد کا نام اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ وہ بہر حال پہنچ جائے گا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے ساتھ بھی چوہدری صاحب کا بچپن کا ساتھ تھا۔چنانچہ رسالہ تفخیذ الاذہان کے اجراء میں اور پھر مجلس انصار اللہ کے قیام میں وہ شروع سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے ساتھ رہے۔دراصل وہ حضور کے ذاتی دوستوں میں سے تھے اور حضور کے ساتھ بے حد عقیدت رکھتے تھے۔اور حضرت خلیفہ اسیح اول کے ساتھ تو ان کا جسمانی رشتہ بھی تھا۔یعنی زوجہ اول کے بطن سے حضور کی نواسی (ہاجرہ بیگم مرحومہ ) جو میری رضاعی بہن تھیں چوہدری صاحب کے عقد میں آئیں اور چوہدری صاحب کی زیادہ اولا دانہی کے بطن سے ہوئی۔اور بعد میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے ساتھ بھی چوہدری صاحب کا رشتہ قائم ہو گیا۔کیونکہ حضور کی چھوٹی صاحبزادی عزیزہ امته الجمیل سلمہا چو ہدری صاحب