مضامین بشیر (جلد 4) — Page 50
مضامین بشیر جلد چهارم 50 ڈرو کیونکہ جس طرح قرآن خدا کا قول ہے اسی طرح سائنس خدا کا فعل ہے۔اور خدا کے قول اور فعل میں کوئی تضاد اور ٹکراؤ ممکن نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ پیارا قول ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو کہ : اے بے خبر بخدمت فرقاں کمر ہند زاں پیشتر که بانگ برآید فلاں نماند پس اس وقت میرا یہی پیغام ہے کہ انصار اللہ کا ہر فرد قرآن کا عالم اور قرآن کا خادم ہونا چاہئے اور سلامتی ہو ان پر جو اپنے آپ کو قرآن کے دامن سے وابستہ رکھیں۔والسلام آپ کا خیر اندیش خاکسار۔مرزا بشیر احمد (محرره 16 فروری 1960 ء) (روز نامه الفضل ربوہ 16 فروری 1960ء) اسلام کا ایک بہادر مجاہد ہم سے جدا ہو گیا چودھری فتح محمد صاحب سیال کی المناک وفات آج مؤرخہ 28 فروری 1960ء صبح ساڑھے نو ( am 9:30 بجے کے قریب حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقره: 157) کل شام مغرب کی نماز کے بعد انہیں اچانک دل کا دورہ ہوا اور آج صبح کو اپنے مولا کو پیارے ہو گئے۔چوہدری صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ابن صحابی تھے۔اور ان کے داماد چوہدری عبداللہ خان صاحب مرحوم بھی گویا پیدائشی لحاظ سے صحابی تھے۔اس طرح چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے گویا اوپر اور نیچے ہر دو جانب سے برکت کا ورثہ پایا تھا۔چوہدری صاحب مرحوم کو یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ جماعت کی طرف سے پہلے مبلغ کے طور پر انگلستان میں تبلیغ اسلام کے لئے بھجوائے گئے۔بلکہ انہیں متعد دمرتبہ تبلیغ کی غرض سے باہر جانے کا شرف حاصل ہوا۔انہیں دراصل تبلیغ کا غیر معمولی عشق تھا۔اور انہیں خدا نے تبلیغ کا