مضامین بشیر (جلد 4) — Page 45
مضامین بشیر جلد چهارم 45 کوئی کھانے کی چیز اٹھالے تو اسے سارق نہیں گردانا بلکہ چشم پوشی سے کام لیا ہے۔ایک دفعہ جبکہ حضرت مسیح موعود سیر سے واپس آکر اپنے مکان میں داخل ہورہے تھے کہ کسی سائل نے دور سے سوال کیا۔مگر اس وقت ملنے والوں کی آوازوں میں اس سائل کی آواز گم ہو کر رہ گئی اور حضرت مسیح موعود اندر چلے گئے۔مگر تھوڑی دیر کے بعد جب لوگوں کی آوازوں سے دور ہو جانے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کے کانوں میں اس سائل کی دکھ بھری آواز کی گونج اٹھی تو آپ نے باہر آکر پوچھا کہ ایک سائل نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت وہ تو اسی وقت یہاں سے چلا گیا تھا۔اس کے بعد آپ اندرونِ خانہ تشریف لے گئے مگر دل بے چین تھا۔تھوڑی دیر کے بعد دروازہ پر اسی سائل کی آواز آئی اور آپ لپک کر باہر آئے اور اس کے ہاتھ میں کچھ رقم دی۔اور ساتھ ہی فرمایا کہ میری طبیعت اس سائل کی وجہ سے بے چین تھی اور میں نے دعا بھی کی تھی کہ خدا اسے واپس لائے۔۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 286) الغرض حضرت مسیح موعود کا وجود ایک مجسم رحمت تھا۔وہ رحمت تھا اپنے عزیزوں کے لئے اور رحمت تھا اپنے دشمنوں کے لئے اور رحمت تھا اپنے ہمسائیوں کے لئے اور رحمت تھا اپنے خادموں کے لئے اور رحمت تھا سائلوں کے لئے اور رحمت تھا عامتہ الناس کے لئے۔اور دنیا کا کوئی چھوٹا یا بڑا طبقہ ایسا نہیں ہے جس کے لئے اس نے رحمت اور شفقت کے پھول نہ بکھیرے ہوں۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ وہ رحمت تھا اسلام کے لئے جس کی خدمت اور اشاعت کے لئے اس نے انتہائی فدائیت کے رنگ میں اپنی زندگی کی ہر گھڑی اور اپنی جان تک قربان کر رکھی تھی۔بالآخر ایک جامع نوٹ پر اپنے اس مقالہ کو ختم کرتا ہوں۔ہمارے بڑے ماموں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم نے میری تحریک پر حضرت مسیح موعود کے اخلاق اور اوصاف کے متعلق ایک مضمون لکھا تھا۔اس میں وہ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت رؤف و رحیم تھے۔سخی تھے۔مہمان نواز تھے۔امجمع الناس تھے۔ابتلاؤں کے وقت جبکہ لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے آپ شیر نر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔عفو، چشم پوشی، فیاضی، خاکساری، وفاداری، سادگی ، عشق الہی، محبت رسول ، ادب بزرگانِ دین، ایفائے عہد، حسنِ معاشرت، وقار، غیرت، ہمت اولوالعزمی، خوش روئی اور کشادہ پیشانی آپ کے ممتاز اخلاق تھے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس وقت دیکھا جب میں دو برس کا بچہ تھا۔پھر آپ میری