مضامین بشیر (جلد 4) — Page 35
مضامین بشیر جلد چهارم 35 نہیں لکھی گئی مگر مسیح موعود کے دعوے پر یہی مولوی صاحب مخالف ہو گئے اور مخالف بھی ایسے کہ انتہا کو پہنچ گئے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لگایا اور دجال اور ضال قرار دیا۔اور آپ کے مخالف ملک بھر میں مخالفت کی خطرناک آگ بھڑ کا دی۔انہی مولوی محمد حسین صاحب کا ذکر ہے کہ وہ ایک دفعہ ڈاکٹر مارٹن کلارک والے اقدام قتل والے مقدمہ میں آپ کے خلاف عیسائیوں کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوئے۔اس وقت حضرت مسیح موعود کے وکیل مولوی فضل دین صاحب نے جو ایک غیر احمدی بزرگ تھے مولوی محمد حسین صاحب کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے ان کے خاندان اور حسب و نسب کے متعلق بعض طعن آمیز سوالات کرنے چاہے مگر حضرت مسیح موعود نے انہیں یہ کہہ کرختی سے روک دیا کہ میں آپ کو ایسے سوالات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔اور یہ الفاظ فرماتے ہوئے آپ نے جلدی سے مولوی فضل دین صاحب کے منہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تا کہ ان کی زبان سے کوئی نا مناسب لفظ نہ نکل جائے۔اور اس طرح اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائی۔اس کے بعد مولوی فضل دین صاحب موصوف ہمیشہ اس واقعہ کا حیرت کے ساتھ ذکر کیا کرتے تھے کہ مرزا صاحب عجیب اخلاق کے انسان ہیں کہ ایک شخص ان کی عزت بلکہ جان پر حملہ کرتا ہے اور اس کے جواب میں جب اس کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے اس پر بعض سوالات کئے جاتے ہیں تو آپ فورا روک دیتے ہیں کہ میں ایسے سوالات کی اجازت نہیں دیتا۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 248,247) ہے کہ: یہ وہی مولوی محمد حسین صاحب ہیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس شعر میں ذکر کیا قَطَعْتَ وَدَاداً قَدْ غَرَسُنَاهُ فِي الصَّبَا وَلَيْسَ فُوَّادِي فِي الْوَدَادِ يُقَصِرُ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ) یعنی تو نے اس محبت کے درخت کو اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا جو ہم نے جوانی کے زمانہ میں اپنے دلوں نصب کیا تھا۔مگر میرا دل تو کسی صورت میں محبت کے معاملہ میں کمی اور کوتاہی کرنے والا نہیں۔دوستی اور وفاداری کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دل حقیقتا بے نظیر جذبات کا حامل تھا۔آپ نے کسی کے ساتھ تعلق قائم کر کے ان تعلقات کو توڑنے میں کبھی پہل نہیں کی اور ہر حال میں محبت اور دوستی کے تعلقات کو کمال وفاداری کے ساتھ نبھایا۔چنانچہ آپ کے مقرب حواری حضرت عبدالکریم صاحب