مضامین بشیر (جلد 4) — Page 542
مضامین بشیر جلد چهارم 542 کریں گے۔ورنہ موجودہ حالات جو دن بدن بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ملک کیلئے خطر ناک تباہی اور مہلک خانہ جنگی کا باعث بن جائیں گے۔اس تجویز کے متعلق جو فی الحال صرف وقتی اثر رکھتی ہے اور جس میں مرکز کے نظام کو نظر انداز کیا گیا ہے، غور کرتے ہوئے اس بات کو بھی یا درکھنا چاہئے کہ باہمی سمجھوتے خواہ وہ افراد کے درمیان ہوں یا قوموں کے درمیان کبھی بھی قربانی کی روح اور فیاضانہ اخلاق کے بغیر طے نہیں پاسکتے۔جس کے لئے سب قوموں کو دل کی کامل صفائی اور خلوص نیت کے ساتھ تیار ہونا چاہئے ورنہ خواہ قانون کی نظر میں ذمہ دار لوگ بَری سمجھے جائیں۔وہ کبھی بھی خالق و مخلوق کی نظر میں بری قرار نہیں دیئے جاسکتے۔بہر حال تجاویز کا ڈھانچہ یہ ہے کہ (1) ہر صوبہ میں لازماً مخلوط وزارت بنائی جائے سوائے اس کے کہ کوئی اقلیت والی قوم یا پارٹی مخلوط وزارت بنانے میں اکثریت کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔جس صورت میں کہ اکثریت والی قوم یا پارٹی کو یہ حق حاصل ہو کہ عدم تعاون کرنے والی قوم یا پارٹی کو نظر انداز کر کے تعاون کرنے والی قوموں یا پارٹیوں کے ساتھ مل کر مخلوط وزارت بنالے اور اگر اقلیت والی قوموں یا پارٹیوں میں سے کوئی ایک بھی تعاون کے لئے تیار نہ ہو۔تو اس صورت میں اکثریت والی قوم یا پارٹی کو خودا کیلے ہی وزارت بنانے کا حق ہو اور گورنر کا فرض ہو کہ اس کام میں ایسی پارٹی کو پوری پوری مدد دے۔اس بات کا فیصلہ کہ کوئی قوم یا پارٹی تعاون کے لئے تیار ہے یا نہیں گورنر کے ہاتھ میں ہوگا۔(2) سوائے اس کے کہ باہم اتفاق رائے سے کوئی اور فیصلہ ہو۔وزارت میں ہر قوم یا پارٹی کا حصہ اس کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے مقرر کیا جائے اور کسر کو اقلیت والی قوموں یا پارٹیوں کے حق میں پورا کیا جائے۔بشرطیکہ اس کے نتیجہ میں اکثریت والی قوم یا پارٹی اپنی اکثریت کے مقام کو نہ کھو بیٹھے۔پنجاب میں سکھوں کی جذباتی دلداری کے لئے ان کے مخصوص حالات کے پیش نظر ( کہ وہ پنجاب سے باہر عملا نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان کے لئے جو کچھ ہے پنجاب ہی ہے اور اس میں بھی وہ صرف تیرہ فی صدی ہیں ) سکھوں کو پنجاب کی وزارت میں ان کی آبادی سے کچھ زیادہ حق دیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس کے بعد وہ تعاون کے لئے تیار ہوں۔یہ زائد حق مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کے حصہ میں سے دیا جائے۔مسلمانوں کے حصہ میں سے اس لئے کہ وہ اکثریت میں ہیں اور جہاں تک کہ وہ اپنی اکثریت کو خطرہ میں ڈالنے کے بغیر قربانی کرسکیں انہیں کرنی چاہئے اور ہندوؤں کے حصہ میں سے اس لئے کہ ایک تو آج کل ان کا اور سکھوں کا گویا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دوسرے جو قوم اقلیت میں ہے اس کے لئے یہ فرق چنداں اہمیت نہیں رکھتا تھا کہ اسے مثلاً