مضامین بشیر (جلد 4) — Page 541
مضامین بشیر جلد چهارم 541 یہ خواب ان سینکڑوں خوابوں میں سے ایک خواب ہے جو جماعت کے کثیر التعداد دوستوں کو آ چکی ہے اور حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ کا اپنا رو یا ان سب سے بالا ہے۔پس خدارا ہمارے غیر مبائع احباب ان حقائق پر غور کریں اور اس محبت کے ہاتھ کو رد نہ کریں جو خدائے رحیم و کریم نے دنیا کی طرف بڑھایا ہے۔یہ ایک رحمت کا نشان تھا اور سب کے لئے رحمت ہی رہنا چاہئے اور خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔وَ آخِرُ دَعْوَانَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ 12 (فرقان اپریل 1944ء) مستقل سمجھوتہ کے لئے موجودہ فضا کی درستی ضروری ہے تمام صوبوں میں لازماً مخلوط وزارتیں بنائی جائیں ہندوستان کی موجودہ سیاسی گتھی کا حل ہر محب وطن کے لئے انتہائی فکر و پریشانی کا موجب ہورہا ہے اور موجوده فرقہ وارانہ فسادات جو کم و بیش ہر صوبے میں رونما ہیں اس گتھی کی پیچیدگیوں کو اور بھی زیادہ کر رہے ہیں۔مگر ظاہر ہے کہ جس وقت باہمی کشیدگی اور بدگمانی انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔اس وقت سمجھوتہ کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے کیونکہ سمجھوتہ کے لئے ایک خاص قسم کے ذہنی ماحول کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور جب تک یہ ماحول پیدا نہ ہو۔لوگوں کی طبیعتیں ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کے متعلق منصفانہ نظر ڈالنے اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں۔پس اس وقت سب سے مقدم کام موجودہ فضا کی درستی ہے۔بے شک مسٹر جناح اور مسٹر گاندھی نے ایک مشتر کہ اپیل شائع کر کے اس درستی کی طرف ایک اچھا قدم اٹھایا ہے جو یقیناً قابل قدر ہے۔مگر ظاہر ہے کہ اس قسم کے غیر معمولی کھچاؤ اور تنافر کے زمانہ میں صرف منہ کی اپیل یا صرف نوک قلم کی جنبش سے کبھی بھی خاطر خواہ نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا، جب تک اس قولی اور قلمی تحریک کے ساتھ ساتھ ملک کے سامنے موجودہ سیاسی فضا کی درستی کا کوئی عملی پروگرام نہ رکھا جائے اور پھر مناسب اور جائز قومی دباؤ کے ذریعہ اس عمل پروگرام کو فی الواقع نہ جاری کر دیا جائے۔اس مقصد و مدعا کے پیش نظر ذیل میں ایک مختصر سا لائحہ عمل پیش کیا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ ملک کے سیاسی لیڈر اس مخلصانہ مشورہ کو مناسب ترمیم کے ساتھ (اگر وہ ضروری سمجھی جائے ) اور مناسب تفاصیل کے ساتھ ( جو باہم سمجھوتے سے طے پائیں ) جلد تر اختیار کر کے اپنے محب وطن ہونے کا حقیقی ثبوت پیش