مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 540 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 540

مضامین بشیر جلد چهارم 540 مجھے اس کی کوئی تعبیر تو کچھ سمجھ نہیں آئی البتہ میں نے اسے ایک عجیب سی خواب سمجھ کر اس کا ذکر اپنے کئی عزیزوں کے ساتھ کیا اور اس کے بعد میں اس خواب کو بھول گیا اور دوسال تک بالکل بھولا رہا۔آخر جب حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ نے گزشتہ ایام میں ایک رؤیا کی بنا پر اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان کیا تو اس وقت مجھے میری لڑکی عزیزہ امتہ الحمید بیگم اور میری بھانجی عزیزہ محمودہ بیگم سلمہا اللہ نے یاد کرایا کہ دو سال ہوئے آپ نے یہ خواب دیکھی تھی اور ساتھ ہی کہا کہ ہمارے خیال میں یہ خواب حضرت صاحب کے دعوئی مصلح موعود پر چسپاں ہوتی ہے۔تب میں سمجھا کہ واقعی یہ خواب اسی امر کے متعلق تھی۔چنانچہ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ اس خواب میں کئی باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں مثلاً (1) اس نوجوان کا حضرت خلیفہ آنتی ایدہ اللہ کے مکان پر اور اس کے بلند ترین حصہ میں نظر آنا۔جس میں حضرت (خلیفہ اسی ) ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود کی طرف اشارہ تھا۔(2) اس کا اپنا نام خلیفہ صلاح الدین ظاہر کر ناجوان الفاظ کا لفظی ترجمہ ہے کہ وہ صلح موعود حضرت مسیح موعود کا خلیفہ بھی ہے اور سب جانتے ہیں کہ حضرت (خلیفہ اسیح ) ایدہ اللہ تعالیٰ کا بعینہ یہی دعوی ہے۔(3) اس کا ہنستگی اور اخفا کے رنگ میں بولنا گویا کہ ابھی پورے انکشاف اور اعلان کا وقت نہیں آیا تھا۔(4) اس کا میرے سوال کے جواب میں عربی زبان میں ”نَعَمُ“ کہنا جو عین حضرت خلیفہ اسی ایده اللہ کے اس رویا کے مطابق ہے جس میں آپ نے اپنے آپ کو عربی میں گفتگو فرماتے دیکھا ہے۔(5) میرا اسے یہ الفاظ کہنا کہ بڑی دیر سے آئے جو مصلح موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الہامی الفاظ کا لفظی ترجمہ ہے کہ دیر آمد پس یہ ایک واضح خواب تھی جو خدا تعالیٰ نے مجھے آج سے قریباً دو سال قبل دکھائی اور اس خواب کی شہادت اس بات سے اور بھی زیادہ قوی ہو جاتی ہے کہ جب میں نے یہ خواب دیکھی اس وقت نہ میرے خیال میں یہ آیا کہ یہ خواب مصلح موعود کے متعلق ہے اور نہ ہی ان لوگوں کا خیال اس طرف گیا جنہیں میں نے یہ خواب سنائی بلکہ مجھے تو یہ خواب بھی بھولی ہوئی تھی جو دو سال بعد بعض عزیزوں کے یاد دلانے سے یاد آئی مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آج سے دو یا سوا دو سال قبل یہ خواب دیکھی اور گو اس کا کوئی لفظ حافظہ کی غلطی سے بدل گیا ہو مگر مفہوم اور حقیقت بالکل یہی تھے اور الفاظ بھی یہی تھے اور میں نے یہ خواب اسی وقت اپنے بعض عزیزوں کو سنا دی تھی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ میرے یہ عزیز ہرگز جھوٹ نہیں بولیں گے اور