مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 34 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 34

مضامین بشیر جلد چهارم 34 ہوئے جاتے ہیں اور خدا کے سامنے تڑپ تڑپ کر عرض کرتے ہیں کہ خدایا! تو رحیم و کریم ہے تو اپنی مخلوق کو اس عذاب سے بچالے اور ان کے ایمان کی سلامتی کے لئے اپنی جناب سے کوئی اور رستہ کھول دے۔اس سے بڑھ کر یہ کہ جب آریہ قوم میں سے اسلام کا دشمن نمبر یعنی پنڈت لیکھر ام آپ کی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہوا تو آپ نے جہاں اس بات پر خدا کی ایک پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور اسلام کی صداقت کا زبر دست نشان ظاہر ہوا ہے طبعا شکر اور خوشی کا اظہار فرمایا وہاں آپ کو پنڈت جی کی موت کا افسوس بھی ہوا کہ وہ صداقت سے محروم ہونے کی حالت میں ہی چل بسے۔چنانچہ فرماتے ہیں: ’ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے۔درد بھی ہے اور خوشی بھی۔درد اس لئے کہ اگر لیکھر ام رجوع کرتا ، زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بدزبانیوں سے باز آ جاتا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کے لئے دعا کرتا۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر (اس کے زخم ایسے ہوتے کہ ) وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی وہ ( بچ جاتا اور ) زندہ ہو جاتا۔“ (سراج منیر روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 28) ایک دفعہ عیسائی مشنریوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اقدام قتل کا سراسر جھوٹا مقدمہ دائر کیا اور ان مسیحی پادریوں میں ڈاکٹر مارٹن کلارک پیش پیش تھے۔مگر خدا نے عدالت پر آپ کی صداقت کھول دی اور آپ اس مقدمہ میں جس میں عیسائیوں کے ساتھ مل کر آریوں اور بعض غیر احمدی مخالفین نے بھی آپ کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا کہ کسی طرح آپ سزا پا جائیں عزت کے ساتھ بری کئے گئے۔جب عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا تو کیپٹن ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے جو بعد میں کرنیل کے عہدہ تک پہنچے اور ابھی حال ہی میں فوت ہوئے ہیں آپ سے مخاطب ہو کر پوچھا: ” کیا آپ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک پر (اس جھوٹی کارروائی کی وجہ سے مقدمہ چلائیں؟ اگر آپ مقدمہ چلانا چاہیں تو آپ کو اس کا قانونی حق ہے۔آپ نے بلا توقف فرمایا کہ ” میں کوئی مقدمہ چلانا نہیں چاہتا میرا مقدمہ آسمان پر ہے۔“ سیرت مسیح موعود مصنفہ عرفانی صاحب صفحہ 107) مولوی محمد حسین بٹالوی رئیس فرقہ اہلِ حدیث کو کون نہیں جانتا۔وہ جوانی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوست اور ہم مکتب ہوتے تھے اور حضور کی پہلی تصنیف ”براہین احمدیہ پر انہوں نے بڑا شاندار ریو یو بھی لکھا تھا۔اور یہاں تک لکھا تھا کہ گزشتہ تیرہ سو سال میں اسلام کی تائید میں کوئی کتاب اس شان کی