مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 531 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 531

مضامین بشیر جلد چہارم 531 دوسرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے نظیر عشق ومحبت۔یہ دو اوصاف آپ کے اندر اس کمال کو پہنچے ہوئے تھے کہ آپ کے ہر قول و فعل اور حرکت وسکون میں ایک پر زور جلوہ نظر آتا تھا۔بسا اوقات اپنے خدا داد مشن اور الہامات کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ مجھے ان کے متعلق ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ دنیا کی کسی چیز کے متعلق زیادہ سے زیادہ علم ہوسکتا ہے۔اور بعض اوقات ان پیشگوئیوں کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ چونکہ وہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی ہیں اس لئے وہ ضرور پوری ہو کر رہیں گی۔اگر وہ پوری نہ ہوں تو مجھے مفتری قرار دے کر بر سر عام پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا جائے تا کہ میرا وجود دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔اپنے الہام کے قطعی ہونے کے متعلق اپنی ایک فارسی نظم میں فرماتے ہیں اں یقینے که بود عیسی را پر کلامی که شد برو القا واں یقین کلیم بر تورات واں یقین ہائے سید السادات کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ هست لعین یعنی جو یقین کہ حضرت عیسی کو اس کلام کے متعلق تھا جو ان پر نازل ہوا اور جو یقین کہ حضرت موسیٰ کو تو رات کے متعلق تھا۔اور جو یقین کہ نبیوں کے سردارمحمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے او پر نازل ہونے والے کلام کے متعلق تھا۔میں یقین کی رو سے ان میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جو شخص جھوٹا دعویٰ کرتا ہے وہ لعنتی ہے۔ایک اور جگہ اپنے منشور کلام میں فرماتے ہیں۔یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر تو۔ہو جاؤں۔اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے۔اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے۔ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے۔اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 412)