مضامین بشیر (جلد 4) — Page 518
مضامین بشیر جلد چهارم 518 مکرمی استاذی مولوی شیر علی صاحب کی روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجلس میں بیان فرمایا کہ ایک دفعہ جب میں لدھیانہ میں تھا اور باہر چہل قدمی کے لئے کسی راستہ پر جا رہا تھا کہ ایک انگریز میری طرف آیا اور سلام کہہ کر مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا آپ سے کلام کرتا ہے۔میں نے کہا کہ ہاں۔اس نے پوچھا کہ وہ کس طرح کلام کرتا ہے؟ میں نے کہا کہ اسی طرح جس طرح اس وقت آپ مجھ سے باتیں کر رہے ہیں۔اس پر اس انگریز کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ سبحان اللہ اور پھر وہ ایک گہری فکر میں پڑ کر آہستہ آہستہ چلتا ہوا رخصت ہو گیا۔مولوی شیر علی صاحب فرماتے تھے کہ اس طرح اس کا سبحان اللہ کہنا آپ کو بہت بھلا معلوم ہوا تھا۔چنانچہ اسی لئے آپ نے یہ واقعہ سنایا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا دعویٰ ہو تو ایسا ہو۔ورنہ یہ کیا کہ نیچریوں یا برہم سماجیوں یا باہیوں بہائیوں کی طرح صرف خاص حالت یا خاص قسم کے دل کے خیالات کا نام ہی خدائی الہام رکھا جاوے یا اپنے آپ کو ہی گویا خدا قرار دے کر اپنی ہر بات کو خدائی کلام سمجھ لیا جاوے۔خاکسار جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو دیکھتا ہے تو دل سرور سے بھر جاتا ہے۔بھلا جس طرح یہ شیر خدا کا مردمیدان بن کر گر جا ہے کسی کی کیا مجال ہے کہ اس طرح میدان میں بقائمی ہوش و حواس افترا کے طور پر قدم دھرے اور پھر لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کے وعید کی آگ اسے جسم نہ کر جائے۔جو شخص چوروں کی طرح بھیس بدل کر چھپ چھپ کر رک رک کر ہر آہٹ پر کان دھرتے اور ہر چیز پر سبھی ہوئی نظر ڈالتے ہوئے کسی کے مکان میں رات کو گھستا ہے وہ لاریب مجرم تو ہے اور اپنی سزا پائے گا مگر ڈا کو نہیں کہلائے گا اور نہ ڈا کہ کے جرم میں پکڑا جائے گا اسی طرح نہ وہ شخص ڈاکہ کے جرم کی سزا پا سکتا ہے جو خود مکان اور اثاثہ مکان کا مدعی بن بیٹھتا ہے۔فافھم۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات بات بہت چھوٹی سی ہوتی ہے مگر اس سے اس کے کہنے والے کے اخلاق و عادات پر بڑی روشنی پڑتی ہے۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَ عَلى مَطَاعِهِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكُ وَسَلِّمُ - ( محررہ 20 مئی 1924 ء) الحکم قادیان 21 تا 28 مئی 1924 ء )