مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 509 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 509

مضامین بشیر جلد چهارم 509 ماہنامہ انصار اللہ دسمبر 1963 ء نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا ایک منظوم کلام حضرت میاں صاحب کے کچھ تمہیدی الفاظ کے ساتھ شائع کیا جو یہ ہے۔گوٹ دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک یہ کہ کسی کے مال یا جان پر ظلم کے رنگ میں ڈاکہ ڈالا جائے ، یہ گوٹ بدترین گناہوں میں سے ہے۔دوسری قسم کی کوٹ یہ ہے کہ پاک محبت کی تاروں میں باندھ کر دوسرے کے مال و جان کو اپنا بنا لیا جائے۔ایسی لوٹ انسانی روح کی جلاء کیلئے ایک بھاری نعمت ہے۔سو ذیل کے اشعار میں اسی قسم کی روحانی لوٹ کا ذکر ہے جس میں اپنے آسمانی آقا کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ آئے اور ہمارے جان و مال کولوٹ لے جو شروع سے اسی کے ہیں لیکن ہم لوگوں نے اپنی کوتاہ نظری یا بے وفائی سے اپنے سمجھ رکھے ہیں۔مگر خیال رہے کہ میں شاعر نہیں ہوں۔اگر فن نظم گوئی کے لحاظ سے کوئی غلطی نظر آئے تو وہ قابل معافی سمجھی جائے۔اصل غرض دلی جذبات کا اظہار ہے۔پہلے دو شعروں میں ایک قرآنی آیت کا مفہوم پیش نظر ہے۔مری سجدہ گاہ ٹوٹ لو میری جبیں کو لوٹ لو میرے عمل کو کوٹ لو اور میرے دیں کو لوٹ لو میری حیات و موت کا مالک ہو کوئی غیر کیوں تم میری ”ہاں“ کولوٹ لو، میری ”نہیں“ کولوٹ لو رنج و طرب میرا سبھی بس ہو تمہارے واسطے روح سرور کوٹ لو، قلب حزیں کو لوٹ لو جب جاں تمہاری ہو چکی پھر جسم کا جھگڑا ہی کیا مرا آسماں تو کٹ چکا اب تم زمیں کو لُوٹ لو نانِ جویں کے ماسوا دل میں مرے ہوس نہیں چاہو تو اے جاں آفریں نان جویں کو لوٹ لو گھر بار یہ میرا نہیں اور میں بھی کوئی غیر ہوں؟ اے مالک کون و مکاں آؤ مکیں کو لوٹ لو ( محرره 30 اکتوبر 1963ء) (ماہنامہ انصار اللہ ستمبر 1963ء)