مضامین بشیر (جلد 4) — Page 508
مضامین بشیر جلد چہارم 508 نصیحت آب زر سے لکھنے اور حرز جان بنانے کے قابل ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں تو اس پر عمل پیرا ہونا از حد ضروری ہے کیونکہ جماعت کی آئندہ ترقی اس نصیحت پر کماحقہ عمل پیرا ہونے کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔ذیل میں وہ نصیحت حضرت میاں صاحب کے الفاظ میں ہدیہ قارئین کی جارہی ہے۔ادارہ ) میں جماعت کے نوجوانوں کو بڑے دردِ دل کے ساتھ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ مرنے والوں کی جگہ لینے کے لئے تیاری کریں اور اپنے دل میں ایسا عشق اور خدمت دین کا ایسا ولولہ پیدا کریں کہ نہ صرف جماعت میں کوئی خلاء نہ پیدا ہو بلکہ ہمارے آقا محمد مصطفے صل اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے طفیل جماعت کی آخرت اُس کی اُولیٰ سے بھی بہتر ہو۔یقیناً اگر ہمارے نوجوان ہمت کریں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس مقصد کا حصول ہرگز بعید نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا کا یہ وعدہ ہے جو حضور نے ان شاندار لفظوں میں بیان فرمایا ہے۔” خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہراک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا“ تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409) خدا کرے کہ ہم اور ہماری اولاد میں اس عظیم الشان بشارت سے حصہ پائیں اور اسلام اور احمدیت کا جھنڈا دنیا میں بلند سے بلند تر ہوتا چلا جائے۔یاد رکھو کہ ایسی زندگی چنداں شاندار نہیں سمجھی جاسکتی کہ انسان ایک بلبلہ کی طرح اٹھے اور پھر بیٹھ جائے اور ساٹھ ستر سال کی عمر میں اس کی فعال زندگی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے بلکہ اصل شان اس میں ہے کہ انسان کی جسمانی موت کے بعد بھی اس کے آثار اس کی اولا د اور اس کے شاگردوں اور اس کے دوستوں اور اس کے عزیزوں اور اس کے علمی اور عملی کارناموں کے ذریعہ روشن جواہرات کی طرح جگمگاتے رہیں۔قرآن نے کیا خوب فرمایا ہے کہ۔والباقيات الصلحت خيرٌ عند ربّك ثواباً و خير املا۔پس بکوشید اے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا روزنامه الفضل 3 مارچ 1960) (ماہنامہ انصار اللہ ربوہ تمبر 1963ء)