مضامین بشیر (جلد 4) — Page 507
مضامین بشیر جلد چهارم 507 ایسا مقام رکھتے تھے جو بعض لحاظ سے عدیم المثال تھا ان کی تعریف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر کافی ہے کہ۔چه خوش بودے اگر ہر یک زانت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس مرد مومن کے متعلق یہ شاندار توصیفی الفاظ استعمال کئے ہیں کہ مولوی نورالدین صاحب اس طرح میری پیروی کرتے ہیں جس طرح کہ انسان کی نبض اس کے دل کی حرکت کے پیچھے چلتی ہے۔حقیقتا حضرت مولوی صاحب کا مقام اطاعت اور مقام تو کل بہت ہی بلند تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعوی سے پہلے یہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ مجھے کوئی ایسا مددگار عطا فرمائے جو میرا دست و بازو ہو کر کام کر سکے چنانچہ حضرت خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت حاصل کی تو انہیں دیکھتے ہی حضور کے دل سے یہ صدا نکلی کہ هَذَا دُعَائِي یعنی یہ مرد مومن میری دعاؤں کی قبولیت کا نتیجہ ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی ارفع شان اور علم کی گہرائی اور خدا داد بصیرت اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی ابھی بچہ ہی تھے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق وثوق کے ساتھ فرمایا کہ یہی ہونے والا مصلح موعود ہے۔میں نے شیخ عبدالقادر صاحب کی اس کتاب کو صرف کہیں کہیں سے دیکھا ہے مگر میں امید کرتا ہوں کہ خدا کے فضل سے یہ کتاب بھی قریباً قریباً اسی شان کی کتاب ہوگی جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح میں لکھی ہے۔مجھے یقین ہے کہ دوست اس مفید کتاب کی اشاعت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں گے تا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے انوار قدسیہ سے زیادہ سے زیادہ برکت حاصل کر سکیں“۔روزنامه الفضل یکم دسمبر 1963ء) جماعت کے نو جوانوں کو ایک خاص نصیحت (قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنے وصال سے ساڑھے تین سال قبل ایک نہایت ہی قیمتی مضمون میں جماعت کے نوجوانوں کو بڑے ہی دردمند دل کے ساتھ ایک نصیحت فرمائی تھی۔وہ