مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 506 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 506

مضامین بشیر جلد چهارم 506 جس کا ہر چھینٹا اور ہر قطرہ زندگی بخش ہے۔دنیا ابھی تک اس آب حیات کو شناخت نہیں کرتی مگر آپ لوگ اس کی روح پرور صفات کا ذوق پاچکے ہیں۔پس دوستو اٹھو اور سستیوں کو چھوڑو اور نہ صرف خود ابدی زندگی اختیار کرو بلکہ دنیا کو بھی زندہ کرنے میں لگ جاؤ کہ اسی پر اسلام کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے۔اور چاہئے کہ احمد یہ جماعت کا ہر مرد اور ہر عورت اور ہر بچہ اور ہر بوڑھا اسلام کی ایک جیتی جاگتی تصویر بن جائے اور اسلام کی خدمت میں اس جہادا کبر کا نمونہ پیش کرے جس کی ہمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری جماعت کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے قول و فعل سے ہمیں تعلیم دی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو اس مقدس مقام پر فائز کرے جس کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَّنْتَظِر یا درکھو کہ یہ خاص خدمت کا زمانہ ہے پس بکوشید اے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا والسلام خاکسار: مرزا بشیر احمد ربوہ 17 مارچ 1962 ء 20 حیات نور روزنامه الفضل 3 نومبر 1963ء) پیش لفظ رقم فرمودہ قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب شیخ عبدالقادر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ لا ہور اپنی معرکہ الآراء تصنیف ”حیات طیبہ (سيرة حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کی وجہ سے جماعت میں کافی متعارف ہو چکے ہیں اور شہرت پاچکے ہیں۔اب انہوں نے خدا کی توفیق سے حضرت حاجی الحرمین مولوی حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی سیرت لکھنی شروع کی ہے اور مجھے اس کے پیش لفظ لکھنے کے لئے درخواست کی ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اپنے علم وفضل اور تقویٰ وطہارت اور توکل علی اللہ اور اطاعت امام میں