مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 505 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 505

مضامین بشیر جلد چهارم برادران ملتان السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله وَبَرَكَاتُهُ 505 مجھے معلوم ہوا ہے کہ ملتان میں جماعت احمد یہ ایک ضلع وارا اجتماع تربیتی نکتہ نگاہ سے منعقد کر رہی ہے۔اور مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں بھی اس موقع پر چند نصیحت کے کلمات کہہ کر شرکت کا ثواب حاصل کروں۔سو ہر چند کہ میں کچھ عرصہ سے بیمار اور کمزور ہوں۔مگر ملتان کے قدیم اور تاریخی شہر کی خصوصیت کے پیش نظر میں اس مبارک موقع کی شرکت سے محروم نہیں رہنا چاہتا اور ذیل میں ایک مختصر سا پیغام بھجوا رہا ہوں۔جیسا کہ سب جانتے ہیں برعظیم پاک و ہند کا وہ خطہ جو سب سے پہلے اسلام کے زیر اثر آیا وہ سندھ کا علاقہ تھا جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے جلد بعد ہی مسلمانوں نے اسلام کے نور سے منور کر دیا تھا۔ملتان گویا اسی مبارک علاقہ کا دروازہ ہے۔اسی لئے وہ قدیم زمانہ سے صلحاء کا مولد ومسکن رہا ہے۔اور اس میں گورستانوں کی کثرت بھی ایک حد تک اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔پس اب جبکہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اسلام پر دینی اور روحانی لحاظ سے کمزوری کا دور آیا ہوا ہے ہمارا فرض ہے کہ اس تاریخی علاقہ کی اصلاح اور ترقی کی طرف خاص توجہ دیں۔اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم خدا کے فضل سے احسان فراموش نہیں بلکہ جہاں جہاں سے ہمارے ملک کو ابتدا میں نور پہنچا ہے ہم اس کی خدمت اور پا بحالی کے لئے ہر طرح آمادہ اور استادہ ہیں۔۔یہ خدمت آپ لوگ دو طرح بجالا سکتے ہیں۔اول اس طرح کہ خود اسلام کی تعلیم کا سچانمونہ بنیں اور آپ کے چہروں پر اسلام کا نور اس طرح چمکتا ہوا نظر آئے جس طرح کہ ایک صاف اور صیقل شدہ آئینہ میں سورج کا عکس نظر آتا ہے۔صحابہ کرام کی زندگیاں آپ لوگوں کے سامنے ہیں۔انہوں نے اسلام کی تعلیم کو اس طرح اپنے اندر جذب کیا کہ مجسم نور بن گئے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد اس طرح گھومنے لگ گئے جس طرح چاند سورج کی شکل اختیار کر کے اس کے ارد گرد گھومتا ہے۔انہوں نے قربانی اور وفاداری کے جذبہ کو انتہا تک پہنچا دیا اور سچ مچ رسول پاک کے ہاتھ پر بک گئے اور نیکی اور اخلاص کا ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا که تاریخ اس کی نظیر لانے سے عاجز ہے۔خدمت کا دوسرا طریق یہ ہے کہ جو حق آپ کو حاصل ہوا ہے اسے دوسروں تک پہنچائیں اور دن رات کی کوشش کے ذریعہ لوگوں کو اسلام کی حقیقت پر قائم کریں۔اور نہ صرف خود پاک ہوں بلکہ اپنے ماحول کو بھی پاک کریں اور امن اور محبت کے طریق پر دنیا کو اسلام کی روح کی طرف کھینچیں اور کھینچتے چلے جائیں۔اس وقت دنیا صداقت کی پیاس میں مری جا رہی ہے۔آپ کے پاس خدا کے فضل سے وہ آسمانی پانی موجود ہے