مضامین بشیر (جلد 4) — Page 500
مضامین بشیر جلد چهارم 500 اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔اگر چہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔اس کا پُر زور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے“ کرزن گزٹ دہلی کیم جون 1908ء) اندریں حالات یہ امرکس قدر قابل افسوس اور انتہائی نا انصافی بلکہ اسلامی غیرت کا مقام ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانہ کے مسلمانوں نے تو آپ کو نجات دہندہ قرار دے کر آپ کی تعریف کی اور اس بات کا بر ملا اعتراف کیا کہ آپ نے عیسائیوں اور آریوں کے اعتراضوں کے ایسے دندان شکن جواب دیئے ہیں کہ جن کی نظیر نہیں ملتی اور مسیحی اور آریہ آپ کے مقابلہ پر بالکل لاجواب ہو کر رہ گئے اور بقول ایک غیر احمدی محقق کے کسی عیسائی اور کسی آریہ کی یہ مجال نہیں تھی کہ وہ حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ پر زبان کھول سکے۔اور آپ کے دلائل کا جواب دے سکے مگر آج قریب ستر سال کے بعد وقت کی مسلمان حکومت نے کسی مصلحت سے یہ ضروری خیال کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی ایک کتاب جو ستر سال پہلے ایک عیسائی کے اعتراضوں کے جواب میں اسلام کی تائید میں لکھی گئی اور جس کے اس لمبے عرصہ میں کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور جسے خود ملک کی عیسائی حکومت پچاس سال تک قابل برداشت خیال کرتی چلی آئی ہے۔اسے بحق سر کا ر ضبط کر لیا جائے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - جماعت کے لئے یہ بڑی غیرت کا مقام ہے بلکہ سچ پوچھوٹو حکومت کے لئے بھی غیرت کا مقام ہے۔اے کاش وہ سمجھے ! اے کاش وہ سمجھے !! (محرره 11 مئی 1963ء) روزنامه الفضل 15 مئی 1963ء) بے پردگی کے رجحان کے متعلق جماعتوں کو مزید اختباہ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی چونکہ غیر از جماعت لوگوں کی نقل میں بعض کمزور طبیعت کے احمدیوں میں بھی بے پردگی کا رجحان پیدا ہو رہا تھا اس لئے میں نے اس معاملہ میں اپنے متعدد مضامین میں از خود بھی اور نگران بورڈ کے ذریعہ بھی