مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 29 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 29

مضامین بشیر جلد چهارم 29 عَلَيَّ أَشُقُ مِنْ ذَالِكَ رَبِّ انْظُرُ إِلَيْنَا وَإِلَى مَا ابْتُلِيْنَا۔عیسائی مشنریوں نے ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے شمار بہتان گھڑے ہیں اور اپنے اس افتراء کے ذریعہ ایک خلق کثیر کو گمراہ کر کے رکھ دیا ہے۔میرے دل کو کسی چیز نے بھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے ہنسی ٹھٹھانے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاک ” کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ان کے دلآزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔خدا کی قسم ! اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دئے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے نا پاک حملے کئے جائیں۔پس اے میرے آسمانی آقا! تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلاء عظیم سے نجات بخش۔“ 66 ( ترجمه عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 15) کیا اس زمانہ میں اس غیرت اور اس فدائیت کی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے؟ اور یہ صرف منہ کا دعویٰ نہیں تھا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری زندگی اور زندگی کا ہر چھوٹا اور بڑا واقعہ اس عظیم الشان فدائیت پر عملی گواہ تھا۔جسے آپ کے مخالف بھی شدید مخالفت کے باوجود قبول کرنے کے لئے مجبور تھے۔چنانچہ آپ کی وفات پر جو تعزیتی مقالہ امرتسر کے غیر احمدی اخبار وکیل نے لکھا اس میں مقالہ نگار لکھتا ہے: ”مرزا صاحب کی رحلت نے ان کے بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے۔اور اس کے ساتھ ہی مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا بھی جو اس کی ذات کے ساتھ وابست تھی خاتمہ ہوگیا۔مرزا صاحب کے لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر نچے اُڑا دیئے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی گچلیاں توڑنے میں بھی مرزا صاحب نے