مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 480 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 480

مضامین بشیر جلد چهارم 480 سے بار بار کہتے تھے کہ سو جاؤ مگر وہ ہماری وجہ سے ساری رات جاگتے رہے اور آنکھ تک نہیں جھپکی۔(سیرت المہدی روایت نمبر 701) یہ پانچ مثالیں میں نے محض بطور نمونہ حضرت مسیح موعود کے صحابہ کے مختلف طبقات میں سے منتخب کی ہیں ورنہ آپ کے صحابہ خدا کے فضل سے آپ کی محبت اور عقیدت اور اخلاص اور قربانی اور نیکی میں حقیقتا اس زمانہ میں دنیا کے لئے ایک پاک اُسوہ اور حضرت مسیح موعود کی صداقت کی زبردست دلیل تھے۔حضرت مسیح ناصری کا یہ قول کتنا سچا اور کتنی گہری حقیقت پر مبنی ہے کہ۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے“ مگر افسوس ہے کہ حضرت مسیح ناصری کو اپنی فلسطینی زندگی میں اپنے درخت کے شیریں پھل دیکھنے نصیب نہ ہوئے اور مسیح کے آخری ابتلاء میں جو صلیب کی شکل میں نمودار ہوا مسیح کے حواریوں نے بڑی کمزوری اور بے وفائی دکھائی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول کی برکت سے مسیح محمدی کو بڑی کثرت کے ساتھ نہایت شیریں پھل عطا کئے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ اس خاص فضل الہی کا ذکر کرتے ہوئے بڑے تشکر و امتنان کے ساتھ فرماتے ہیں کہ۔میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں جو سچے دل سے میرے پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت ایسے روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیرو، ان سے جو اُن کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار ہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہروں پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردار ہو جاؤ تو وہ دستبردار ہونے کے لئے مستعد ہیں۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سنا تا مگر دل میں میں خوش ہوں“ 66 (الذكر الحکیم نمبر 4 صفحہ 16 و17 ) سچ ہے اور پھر بیچ ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔خدا کرے کہ حضرت مسیح موعود کے ہاتھ کا گایا ہوا خدائی پودا قیامت تک اسی قسم کے شیریں پھل پیدا کرتا چلا جائے اور ہماری نسلیں اور پھر نسلوں کی نسلیں اس مقدس ورثہ کی قدر و قیمت کو پہچانیں جو حضرت مسیح موعوڈ کے صحابہ کے ذریعہ جماعت کو حاصل ہوا ہے۔