مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 28 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 28

مضامین بشیر جلد چهارم جِسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَالَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ 28 آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 594) یعنی اے میرے آقا ! میری طرف رحمت اور شفقت کی نظر رکھ۔میں تیرا ایک ادنی ترین غلام ہوں۔اے میرے محبوب تیری محبت میرے رگ وریشہ میں اور میرے دل میں اور میرے دماغ میں رچ چکی ہے۔اے میری خوشیوں کے باغیچے ! میں ایک لمحہ اور ایک آن بھی تیری یاد سے خالی نہیں رہتا۔میری روح تو تیری ہو چکی ہے مگر میرا جسم بھی تیری طرف پرواز کرنے کی تڑپ رکھتا ہے۔اے کاش! مجھ میں اُڑنے کی طاقت ہوتی۔ان اشعار میں جس محبت اور جس عشق اور جس تڑپ اور جس فدائیت کا جذ بہ جھلک رہا بلکہ چھلک رہا ہے وہ کسی تبصرہ کا محتاج نہیں۔کاش ہمارے احمدی نوجوان اس محبت کی چنگاری سے اپنے دلوں کو گرمانے کی کوشش کریں۔اور کاش ہمارے غیر احمدی بھائی بھی اس عظیم الشان انسان کی قدر پہچانیں جس کے متعلق ہم سب کے آقا اور سردار حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ : " يُدَفَنُ مَعِيَ فِي قَبُرِى (کتاب الوفاء ابن الجوزی) یعنی آنے والے مسیح کو میری روح کے ساتھ ایسی گہری مناسبت اور ایسا شدید لگاؤ ہوگا کہ اس کی روح وفات کے بعد میری روح کے ساتھ رکھی جائے گی۔عشق کا لازمی نتیجہ قربانی اور فدائیت اور غیرت کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں یہ جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا۔ایک جگہ عیسائیوں پادریوں کے ان جھوٹے اور ناپاک اعتراضوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں جو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات پر کیا کرتے ہیں کہ: نَحْتُوا لِلرَّسُولِ الْكَرِيمِ بُهْتَانَاتٍ وَأَضَلُّوا خَلْقًا كَثِيرًا بِتِلْكَ الْإِفْتِرَاءِ - وَمَا أَذًى قَلْبِي شَيْءٌ كَاسْتِهْزَ آئِهِمْ فِي شَانِ الْمُصْطَفَى وَ جَرْهِهِمْ فِي عَرْضِ خَيْرِ الْوَرى وَاللَّهِ لَوْ قُتِلَتُ جَمِيعُ صِبْيَانِي وَأَوْلَادِى وَ أَحْفَادِى بِأَعْيُنِنِي - وَ قُطِعَتْ أَيْدِي وَ أَرْجُلِي وَ أُخْرِجَتِ الْحَدَقَةُ مِنْ عَيْنِى - وَأَبْعِدْتُ مِنْ كُلِّ مُرَادِى وَ أُونِى وَأَرَني - مَا كَانَ