مضامین بشیر (جلد 4) — Page 471
مضامین بشیر جلد چهارم 471 مختصر طور پر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔وَمَا تَوْفِيقِى إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيْم - 18۔میں اپنی گزشتہ سال کی تقریر میں اقتداری معجزات کی تشریح کے متعلق کچھ بیان کر چکا ہوں۔ایسے معجزات خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی وحی والہام کے نزول کے بغیر محض ایک مرسل یزدانی کی روحانی قوت سے وجود میں آتے ہیں اور اس کی صداقت اور خدائی نصرت کی زبردست دلیل بن جاتے ہیں۔آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی میں ایسے بہت سے معجزات کی مثال ملتی ہے کہ جب آپ نے اپنی قوت قدسیہ اور خدا داد روحانی طاقت کے ذریعہ غیر معمولی معجزات کا عالم پیدا کر دیا۔مثلاً بعض اوقات جبکہ کوئی فوری علاج میسر نہیں تھا آپ نے ایک عزیز صحابی کی بیمار آنکھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور وہ خدا کے فضل سے کسی قسم کے ظاہری علاج کے بغیر اچھی ہوگئی ( بخاری حالات غزوہ خیبر ) یا آپ نے کسی اشد ضرورت کے وقت تھوڑے سے پانی کے برتن میں اپنی انگلیاں ڈالیں اور وہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے جوش مار کر بہنے لگا اور صحابہ کی ایک بڑی تعداد اس سے سیراب ہوگئی (بخاری۔باب شرب البرۃ والماء المبارک) یا غذا کی قلت کے وقت میں آپ کی برکت سے تھوڑا سا کھانا کثیر التعداد صحابہ کے لئے کافی ہو گیا اور سب نے اس کھانے سے سیری حاصل کی ( بخاری باب غزوة الخندق) یہ سب اقتداری معجزات کی روشن مثالیں ہیں جو خدائے عرش نے اپنے محبوب رسول کی خاطر اس کے ہاتھ پر ظاہر فرمائیں۔اسی قسم کے اقتداری مجزات خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کی زندگی میں بھی کافی تعداد میں ملتے ہیں۔مثلاً آپ نے کسی بے چین بیمار پر اپنا ہاتھ رکھا اور وہ محض آپ کے ہاتھ کے چھونے سے شفایاب ہو گیا۔یا آپ نے کسی فوری ضرورت کے وقت تھوڑے سے کھانے میں اپنی انگلیاں ڈالیں اور وہ کثیر التعدادلوگوں کے لئے کافی ہو گیا وغیرہ وغیرہ۔بیشک جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے معجزات کا منبع صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور کسی نبی یا رسول کو از خود یہ طاقت حاصل نہیں ہوتی کہ وہ خدائی اذن کے بغیر کوئی معجزہ دکھائے (سورہ مومن آیت 79) اور نہ ہی نبیوں کی یہ شان ہے کہ وہ نعوذ باللہ مداریوں کی طرح تماشہ دکھاتے پھریں۔مگر یہ بھی خدا ہی کی سنت ہے کہ بعض اوقات وہ خاص پیاروں اور مقبولوں کی خاطر مومنوں کے ایمان میں تازگی پیدا کرنے یا ان کے عرفان میں زیادتی کا رستہ کھولنے کے لئے اس قسم کے خارق عادت نشانات دکھاتا ہے کہ خدا کے اذن کے ساتھ ان کی طرف سے صرف اشارہ ہونے پر یا محض ہاتھ کے