مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 470 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 470

مضامین بشیر جلد چهارم 470 اور خطرناک ہیں۔اس کے علاوہ اکثر اوقات میری نبض بھی زیادہ تیز رہتی ہے جو گھبراہٹ اور بے چینی کا موجب ہوتی ہے۔مزید برآں 1962ء کے آخر میں آکر مجھے دل کی تکلیف کا بھی عارضہ ہو گیا اور میرے دل میں ایسا نقص پیدا ہو گیا کہ بار بار دل میں درد اٹھتا تھا جس کی لہر بائیں بازو کی طرف جاتی تھی جو ایک خراب علامت سمجھی جاتی ہے۔دراصل ایک دفعہ 1954ء میں بھی مجھے دل کی بیماری کا حملہ ہوا تھا جس کی وجہ سے میں چار ماہ تک موت و حیات کے درمیان لٹکتا رہا۔مگر اس کے بعد میرے خدا نے مجھ پر رحم کیا اور کئی سال تک میری صحت ایسی رہی کہ گو میں بالکل تندرست تو نہیں ہو سکا مگر خدا کے فضل سے علمی کاموں میں توجہ دینے اور ایک حد تک محنت کرنے کے قابل ہو گیا۔لیکن 1962ء کے آخر میں جبکہ میری عمر تشسی حساب سے ستر سال کی ہو رہی ہے غالباً زیادہ کام کرنے کی وجہ سے میری یہ تکلیف پھر عود کر آئی اور بعض اوقات روزانہ اور بعض اوقات وقفہ وقفہ کے ساتھ دل کی تکلیف کے دورے ہونے لگے اور کمزوری بہت بڑھ گئی۔حال ہی میں لاہور کے ایک قابل ڈاکٹر نے جو ماہر امراض قلب ہیں مجھے ربوہ میں آکر دیکھا اور میرے دل اور جگر اور سینے وغیرہ کا معائنہ کرنے اور دل کا ای سی۔جی فوٹو لینے کے بعد انہوں نے بتایا کہ میرے دل کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے اور مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور تاکید کی کہ مجھے کچھ عرصہ تک محنت اور کوفت اور پر یشانی والے کام سے کلی طور پر اجتناب کرتے ہوئے مکمل آرام کرنا چاہئے۔ان حالات میں مجھے موجودہ تقریر ذکر حبیب یعنی ” آئینہ جمال“ کی تیاری میں اس دفعہ خاطر خواہ توجہ دینے کا موقع نہیں مل سکا۔یعنی نہ تو میں ٹھیک طرح روایات اور واقعات کا انتخاب کر سکا ہوں اور نہ ہی میں نے ان روایات اور واقعات کو مؤثر اور دلچسپ رنگ میں بیان کرنے کی طاقت پائی ہے بلکہ محض سرسری مطالعہ اور سرسری انتخاب کے نتیجہ میں جو عام روایتیں میرے علم میں آئیں انہیں سادہ زبان میں بیان کر دیا ہے۔آگے اللہ تعالیٰ انسان کی زبان اور قلم میں تاثیر ڈالنے والا ہے اور میں اسی سے بہتری کی امید رکھتا ہوا اپنے دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ ان حالات میں میرے اس مجموعہ میں کوئی خامی یا کمزوری دیکھیں تو مجھے معذور تصور فرمائیں۔اور اگر کوئی خوبی پائیں تو اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔صحت کی کنجی خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی اپنے فضل سے سنانے والے کو صحت کے ساتھ سنانے اور اپنے بیان میں اثر پیدا کرنے کی توفیق دے سکتا ہے۔اور وہی ہے جو سننے والوں کے دل و دماغ کی کھڑکیاں کھولنے کی طاقت رکھتا ہے۔بس اسی جملہ معترضہ کے ساتھ میں اپنے اصل مضمون کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے بقیہ مضمون کو