مضامین بشیر (جلد 4) — Page 468
مضامین بشیر جلد چہارم 468 ہوا جو اس خاک میں سوئے ہوئے ہیں کیونکہ جب مجھے دہلی والوں کی طرف سے محبت محسوس نہ ہوئی تو میرے دل نے اس بات کے لئے جوش مارا کہ وہ ارباب صدق وصفا اور عاشقانِ حضرت مولیٰ جو میری طرح اس زمین کے باشندوں سے بہت سے جور و جفا دیکھ کر اپنے محبوب حقیقی کو جاملے ان کے متبرک مزاروں سے ہی اپنے دل کو خوش کرلوں۔پس میں اسی نیت سے حضرت خواجہ شیخ نظام الدین رضی اللہ عنہ کے مزار متبرک پر گیا اور ایسا ہی دوسرے چند مشائخ کے متبرک مزاروں پر بھی گیا۔خدا ہم سب کو اپنی رحمت سے معمور کرے۔آمین ثم آمين ارام عبدالله احمد لا احمد مسیح الموعو من الله الاحد ( بدر 24 نومبر 1905ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحریرہ میں جس گہرے رنج والم اور جس دلی حسرت کا اظہار نظر آ رہا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں گویا یہ خیال کہ دلّی کا تاریخی شہر جس کی خاک میں سینکڑوں عالی مرتبہ بزرگ اور صلحاء اور اولیاء مدفون ہیں حضور کے لائے ہوئے نور ہدایت اور اسلام کے دور ثانی کی برکات سے محروم رہا جارہا ہے۔حضور کے دل کو بے چین کر رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضور گو یا کشفی حالت میں اپنی آنکھوں کے سامنے ان کثیر التعداد بزرگوں کو دیکھ رہے تھے جو دتی کے چپہ چپہ میں مدفون ہیں اور پھر ان سے ہٹ کر حضور کی نظر ان بزرگوں کی موجودہ اولاد کی طرف جاتی تھی جو اب اپنی جہالت اور تعصب کی وجہ سے اس نور کا انکار کر رہی تھی جسے دیکھنے کے لئے ان کے لاکھوں کروڑوں باپ دادا ترستے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔یہی وہ حسرت تھی جس نے حضور کے دل کو بے چین کر دیا۔مگر حضرت مسیح موعود کی یہ حسرت ہر گز مایوسی کے رنگ میں نہیں تھی بلکہ رنج اور افسوس اور دکھ کے رنگ میں تھی۔اور یہ اسی قسم کی حسرت تھی جس کے متعلق خود خدائے عرش انبیاء کے انکار کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں فرماتا ہے کہ۔يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ، مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُنَ (يس: 31) یعنی حسرت ہے دنیا کے لوگوں پر کہ خدا کی طرف سے جو رسول بھی ان کی طرف سے آتا ہے وہ ہمیشہ اس کا انکار کرتے اور اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔چنانچہ دوسری جگہ لوگوں کے اس انکار اور اپنی اس حسرت کے ساتھ جوڑ ملاتے ہوئے اپنی آئندہ شاندار مقبولیت کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ۔