مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 467 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 467

مضامین بشیر جلد چهارم 467 بے شک لوگ ملنے کے لئے آتے تھے اور کافی کثرت کے ساتھ آتے تھے۔لیکن اکثر لوگ تو مخالفت کی غرض سے ہی آتے تھے اور انکار کی حالت میں ہی استہزاء کرتے ہوئے واپس لوٹ جاتے تھے اور بعض بر ملا مخالفت تو نہیں کرتے تھے مگر بزدلی کی وجہ سے خاموش رہتے تھے۔اور بعض جن کے دل میں کچھ ایمان کی چنگاری روشن ہوتی تھی وہ مملکت روما کے ہر قل کی طرح اس چنگاری کو اپنے ہاتھ سے بجھا کر اپنی جھولی جھاڑتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے۔دتی نہ صرف بڑے بڑے جاہ و حشمت والے مسلمان بادشاہوں اور شان و شوکت والے حکمرانوں کا دار الحکومت رہا تھا بلکہ اس کی سرزمین میں بہت سے بزرگ اور اولیاء اور صلحاء بھی پیدا ہوئے تھے جن کے مزار آج دتی کے زندہ انسانوں کی بجائے لوگوں کی زیادہ کشش کا موجب بنے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی منکسرانہ طبیعت اور نیک لوگوں کی سنت کے مطابق ارادہ کیا کہ جو مجد دین اور اولیاء کرام دتی کی خاک میں مدفون ہیں ان کی قبروں پر جا کر دعا کریں اور ان کے لئے اور اہل دتی کے لئے خدا سے خیر و برکت کے طالب ہوں۔چنانچہ حضور اس سفر کے دوران حضرت شیخ نظام الدین اولیاء اور حضرت سید ولی اللہ شاہ اور حضرت خواجہ باقی باللہ اور حضرت خواجہ بختیار کا کی اور حضرت خواجہ میر در درحمۃ اللہ علیہم کے مزاروں پر تشریف لے گئے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر در ددل سے دعا فرمائی۔جب آپ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء کے مزار پر تشریف لے گئے تو اس وقت یہ عاجز بھی بچپن کی عمر میں آپ کے ساتھ تھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ دعا کے بعد حضور نے فرمایا کہ اس وقت اس جگہ لوگوں کی کثرت ہے اور شور زیادہ ہے ورنہ میں یقین رکھتا ہوں کہ مجھے اس جگہ کشف کے ذریعہ بیداری کی حالت میں ہی حضرت شیخ نظام الدین اولیاء کی ملاقات ہو جاتی۔اس وقت خواجہ حسن نظامی صاحب مرحوم بالکل نوجوان تھے اور وہ حضور کے ساتھ ہو کر بڑے ادب کے طریق پر حضور کو درگاہ کی مختلف زیارت گاہیں دکھاتے پھرتے تھے۔بالآخر جب حضرت مسیح موعود دلی کے سفر سے قادیان کو واپس روانہ ہونے لگے تو خواجہ حسن نظامی صاحب نے حضوڑ سے درخواست کی کہ آپ حضرت نظام المشائخ کے مزار پر تشریف لے گئے تھے اس کے متعلق کچھ مناسب الفاظ تحریر فرما دیں۔حضور نے وعدہ فرمایا کہ قادیان جا کر لکھ دوں گا۔چنانچہ قادیان واپس پہنچنے پر حضور نے خواجہ حسن نظامی صاحب کو ذیل کی تحریر لکھ کر بھیجوا دی جو دتی کے حالات سفر اور دتی والوں کے انکار کی گویا ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔حضور اس تحریر میں فرماتے ہیں کہ۔” مجھے جب دتی جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے اُن صلحاء اور اولیاء الرحمن کے مزاروں کی زیارت کا شوق پیدا