مضامین بشیر (جلد 4) — Page 466
مضامین بشیر جلد چہارم 466 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت مخالف بلکہ معاند تھے۔آپ ان کی تکلیف کی اطلاع پا کر فوراً ہی ان کے گھر تشریف لے گئے۔اور ان کا علاج کیا اور ان سے ہمدردی فرمائی (سیرت المہدی حصہ سوم روایت 115 ) یہ وہی مرزا نظام الدین صاحب ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بعض جھوٹے مقدمات کھڑے کئے اور اپنی مخالفت کو یہاں تک پہنچا دیا کہ حضرت مسیح موعود اور حضور کے دوستوں اور ہمسایوں کو دکھ دینے کے لئے حضور کی مسجد یعنی خدا کے گھر کا رستہ بند کر دیا۔اور بعض غریب احمدیوں کو ایسی ذلت آمیز اذیتیں پہنچا ئیں کہ جن کے ذکر تک سے شریف انسان کی طبیعت حجاب محسوس کرتی ہے (سیرت المهدی حصہ اول روایت نمبر 140) مگر حضور کی رحمت اور شفقت کا یہ عالم تھا کہ مرزا نظام الدین جیسے معاند کی بیماری کا علم پا کر بھی حضور کی طبیعت بے چین ہو گئی۔اس واقعہ سے حضور کے اس قول کی شاندار عملی تصدیق ہوتی ہے جسے میں نے گزشتہ سال کی تقریر میں بیان کیا تھا جس میں حضور فرماتے ہیں کہ ہمارا کوئی دشمن سے دشمن انسان بھی ایسا نہیں جس کے لئے ہم نے کم از کم دو تین دفعہ دعا نہ کی ہو ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 97,96) اللہ اللہ ! کیا دل تھا اور اس دل نے خدائی رحمت کے وسیع سمندر سے کتنا حصہ پایا تھا! کاش جماعت احمدیہ کے مرد اور عورتیں اور بچے اور بوڑھے اور خواندہ اور ناخواندہ خدا کی طرف سے اسی قسم کی رحمت کا ورثہ پائیں تا کہ وہ اس جمالی شان کا آئینہ بن جائیں جو آسمان کے خالق و مالک کی طرف سے حضرت مسیح موعود کو عطا کی گئی تھی۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ 16 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غیر معمولی جمالی صفات اور آپ کے بے مثال حسن و احسان کے باوجود خدائی سنت کے مطابق دنیا کی ہر قوم نے حضرت مسیح موعود کی انتہائی مخالفت کی اور کوئی دقیقہ آپ کو تکلیف پہنچانے اور نا کام رکھنے کا اٹھا نہیں رکھا اور ہر رنگ میں اپنے دروازے آپ پر بند کر دیئے۔میں اس تعلق میں ایک چھوٹا سا دلچسپ واقعہ بیان کرتا ہوں۔1905ء کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود دہلی تشریف لے گئے جو آپ کی زوجہ مطہرہ یعنی ہماری اماں جان رضی اللہ عنھا کا مولد ومسکن تھا۔مگر یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ وہاں جانے سے پہلے حضور نے ایک رویا دیکھا کہ حضور دتی گئے ہیں لیکن حضور نے وہاں کے سب دروازوں کو بند پایا ہے ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 487) چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب آپ دہلی پہنچے تو ساری قوموں کی طرف سے آپ کی شدید مخالفت کی گئی اور ہر قوم اور ہر طبقہ نے آپ پر اپنا دروازہ بند کر دیا۔